The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 566

The Light of Truth — Page 296

296 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وتتكلفون أيها الجائرون ما لكم لا تفهمون؟ وإنّا نُريكم فلا تنظرون، ونعطيكم فلا تأخذون، وتفترون الكذب ولا تستحيون، وأيقظكم الموقظون فلا تستيقظون . ألا تتقون الذى إليه ترجعون، أو ظننتم أنكم من المتروكين؟ وقد قلت آنفا إن القرآن ما بين حال النصارى على نهج واحد، بل جعل بعضهم على بعض كشاهد، وقال إن بعضهم يعبدون المسيح ويتخذونه إلها عمدًا ، وبعضهم يعبدون معه أُمَّه ويحمدونها حمدًا، وفيهم فرقة قليلة يعبدون الله ويحسبونه رحيمًا ورحمانًا، ويحسبون المسيح بشرًا وإنسانًا، وهذه الفرق الثلاثة كانوا في عهد نبينا صلى الله عليه وسلم موجودين، والقرآن قرء عليهم إلى قرون ومئين، فما قال أحد منهم أن القرآن يعزو إلينا ما يخالف عقائدنا وتعاليم عمائدنا، ولا يفهم سر أقانيمنا، ويخطى في بيان تعاليمنا و إن كنت تظن أنه قال أحد كمثل هذه الأقوال، أو وجدت كتابا شاهدا على هذا المقال، فأخرج لنا كتابك إن كنت من الصادقين. وإن لم تستطع فاتق الله ولا تتبع آراء قوم فاسقين. پس اس مثال سے ڈرو اور مسیح کے سوانح میں غور کرو اور ان باتوں میں جو اس نے فرمائیں اور جو کچھ عیسیٰ نبی اللہ نے فرمایا تھا وہ تو پاک تعلیم تھی مگر ان پر واویلا جنہوں نے ان باتوں کو نہ سمجھا اور تعلیم کو بدل دیا اور ہم ظالموں کے حال پر اور دکھ دینے والوں اور دل خستہ کرنے والوں پر روتے ہیں بلکہ دعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو ہدایت دے اور ان کے حال پر رحم کرے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ اے ظالمو! تمہیں کیا ہوا کہ تم سمجھتے نہیں اور ہم تمہیں دکھلاتے ہیں اور تم دیکھتے نہیں اور ہم تمہیں دیتے ہیں اور تم لیتے نہیں اور تم جھوٹ باندھتے ہو اور شرم نہیں کرتے اور تمہیں جگایا جاتا ہے اور تم جاگتے نہیں کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جس کی طرف تم پھیرے جاؤ گے یا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں چھوڑا جائے گا۔ اور میں ابھی کہہ چکا ہوں کہ قرآن نے نصاریٰ کا حال ایک طور سے بیان نہیں کیا بلکہ بعض کو بعض کا گواہ ٹھہرا دیا ہے اور کہا کہ بعض مسیح کی عبادت کرتے ہیں اور اس کو عمد أخد ابنارکھا ہے اور بعض اس کے ساتھ اس کی ماں کی بھی پرستش کرتے ہیں اور اس کی حمد میں مشغول ہیں اور تھوڑا سا فرقہ ایسا بھی ہے جو موحد ہے اور خدا تعالیٰ کو رحیم ورحمان سمجھتے ہیں اور مسیح کو صرف بشر اور انسان سمجھتے ہیں اور یہ تینوں فرقے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے۔ اور صد با سال ان پر قرآن پڑھا گیا مگر کوئی ان میں سے معترض نہ ہوا کہ قرآن ہماری طرف ایسے عقائد منسوب کرتا ہے جو ہمارے عقائد کے مخالف ہیں اور کسی نے نہ کہا کہ قرآن ہمارے اقنوموں کے بھیدوں کو نہیں سمجھتا اور ہماری تعلیموں کے بیان میں خطا کرتا ہے اور اگر تیر اگمان ہے کہ کسی نے ایسا کہا ہے یا تو نے کوئی ایسی کتاب دیکھی ہے جو ان باتوں پر شاہد ہو تو تیرے پر واجب ہے کہ ہمارے رو برو وہ کتاب پیش کرے اگر تو سچا ہے۔ اور اگر تو پیش نہ کر سکے تو خدا تعالیٰ سے ڈر اور فاسقوں کی راؤں کی پیروی مت کر۔ اور تم خوب یاد رکھو کہ تم نے اس زمانہ میں جو تدبر اور امعان کا زمانہ ہے اپنے دلوں میں سمجھ لیا ہے کہ