The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 566

The Light of Truth — Page 276

القصيدة في فضائل القرآن وشأن كتاب الله الرحمن لَمَّا أَرَى الْفُرْقَانُ مِيْسَمَهُ تَرَدَّى مَنْ طَغَى مَنْ كَانَ نَابِغَ وَقْتِهِ جَاءَ الْمَوَاطِنَ الْتَغَا وَإِذَا أَرَى وَجْهَا بِأَنْوَارِ الْجَمَالِ مُصَبَّغَا فَدَرَى الْمُعَارِضُ أَنَّهُ أَلْغَا الْفَصَاحَةَ أَوْ لَغَا مَنْ كَانَ ذَا عَيْنِ النُّهَى فَإِلَى مَحَاسِنِهِ صَغَى إِلَّا الَّذِي مِنْ جَهْلِهِ أَبْغَى الضَّلَالَةَ أَوْ بَغْى عَيْنُ الْمَعَارِفِ كُلِّهَا أَتَاهُ حِبُّ مُبْتَغَى لَا يَنْبَأَنَّ بِبَحْرِهِ اللَّ ذَخَّارِ كَلْبًا مُّوْلَغَا قصیدہ قرآن کے فضائل اور کتاب اللہ کی شان میں جب قرآن نے اپنی شکل دکھلائی تو ہر یک جو شخص اپنے وقت کا فصیح اور جلد گو تھا وہ طاغی نیچے گر گیا کند زبان ہو کر میدان میں آیا اور جب قرآن نے اپنا ایسا چہرہ دکھایا جو انوار تو معارض سمجھ گیا کہ وہ قرآن کے معارضہ جمال سے رنگین تھا میں فصاحت بلاغت سے دور ہے اور لغو بک رہا ہے جو شخص عقلمند تھا وہ قرآن کے محاسن کی ہاں وہ باقی رہا جو گمراہی کا مدد گار بنا اور ظلم طرف مائل ہو گیا مائل ہو اختیار کیا تمام معارف کا چشمہ خدا تعالیٰ نے قرآن کو دیا اور اس کے بحر زخار سے اس کتے کو خبر نہیں دی جاتی جس کو تھوڑا سا پانی پلایا جاتا ہے