The Light of Truth — Page 226
226 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الأولين؟ ولم لا تقبل النصيحة، وتعادى العقيدة الصحيحة، ولا تكون من المسترشدين؟ نعطيك شهدًا ينقع، وتعدو إلى سم منقع، أتريد أن تكون من الهالكين؟ وأما ما ظننت أن الله يسمى المسيح في القرآن روحًا من الله الرحمن، ولا يسميه بشرا ومن نوع الإنسان، فأعجبني أنكم لم لا تأنفون من البهتان، ولم لا تستحيون من خرافات وتنضنضون نضنضة الثعبان، وما كنتم منتهين. وتميسون كالسكارى وجدانا ووجدًا، ولا ترون غورًا ولا نَجْدًا، ولا تخافون هوة السافلين. أجعلتم قرة عيونكم ومسرة قلوبكم في الأكاذيب، وطبتم نفسًا بإلغاء طلب الحق وإلقاء حبل الله القريب، وكنتم قوما عادين؟ ويل لكم. إنكم سقطم على دمنة، وأعرضتم عن روضة، بل تركتم شجراء - وآثرتم مزداء، ونزلتم عن متن الركوبة، واخترتم طريق الصعوبة، وقفوتم أثر المبطلين. وإن كنتم تظنون أن القرآن صدق قولكم وأعان، وقال في شأن عيسى وروح منه وقبل أنه خرج من لدنه، فما هذا إلا جهل صريح ووهم قبيح وخطأ مبين. ثم إن فُرِضَ أن قوله تعالى ورُوحٌ منه يزيد شأن ابن مريم، ويجعله ابن الله وأعلى وأكرم، فيجب أن يكون مقام آدم أرفع منه وأعظم، ويكون رکھتا اور منجملہ نوع انسان اس کو قرار نہیں دیتا سو مجھے تعجب ہے کہ تم لوگ کیوں بہتان سے کراہت نہیں کرتے اور خرافات بکنے کے وقت تمہیں کیوں شرم نہیں آتی اور اژدہا کی طرح زبان ہلاتے ہو اور باز نہیں آتے اور تم مارے غصہ اور غم کے ایسے چلتے ہو جیسا کہ ایک مست چلتا ہے اور نشیب و فراز کو کچھ بھی نہیں دیکھتے اور گڑھے میں گرنے سے نہیں ڈرتے۔ کیا جھوٹ بولنے میں ہی تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کی خوشی ہے اور تم اس بات پر خوش ہو گئے کہ حق کو چھوڑ دو اور خدا کے رسہ کو جو بہت نزدیک ہے پھینک دو۔ تم پر افسوس کہ تم ایک مزبلہ پر گرے اور باغ سے کنارہ کیا بلکہ تم نے درختوں والی زمین کو چھوڑا اور ویران بے درخت زمین کو اختیار کیا اور سواری سے تم اتر بیٹھے اور خرابی اور سختی کا راہ اختیار کر لیا اور باطل پرستوں کے پیچھے لگ گئے۔ اور اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ قرآن تمہارے قول کی تصدیق کرتا اور تمہیں مدد دیتا ہے اور عیسیٰ کے بارہ میں کہا ہے کہ وہ اس سے روح ہے اور اس بات کو قبول کر لیا ہے کہ وہ اس سے نکلا ہے تو یہ خیال تمہارا صریح جہل اور مکر وہ وہم ہے اور کھلا کھلا خطا ہے۔ پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ روح منہ کا لفظ حضرت عیسیٰ کی شان بڑھاتا ہے اور اس کو ابن اللہ اور بلند تر ٹھہر آتا ہے سواس سے لازم آتا ہے کہ حضرت آدم کا مقام حضرت مسیح سے زیادہ بلند ہو اور پہلا بیٹا خدا تعالیٰ کا حضرت آدم ہی ہو۔ کیونکہ حضرت آدم کی شان میں حضرت عیسیٰ کی نسبت زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے سو عقلمندوں کی طرح لفظ فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ میں غور کر اور پھر اس لفظ میں غور کر جو خلقت بیدی اور سویتہ اور نفخت فيه من روحی ہے اور دوسرے لفظوں کو بھی سوچ تا کہ تیرے پر حضرت آدم کی شان اعلیٰ ظاہر ہو کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کرتا ہے کہ روح اللہ آدم میں اترا تھا اور وہ اتر نا بہت روشن تھا یہاں تک کہ آدم ملائکہ کا سجدہ گاہ ٹھہرا اور تجلیات عظمی کا مظہر بنا اور خدائے غنی سے بہت قریب ہوا اور افضل ٹھہرا۔