The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 566

The Light of Truth — Page 224

224 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE إلى البرية من الروح ليجرب من الشيطان اللعين. فثبت أنّ روح القدس نزل على المسيح كما نـزل على إبراهيم وإسماعيل الذبيح وغيره من المرسلين. فاتق رب العباد وفكز لطلب السداد، مجتهدا لتحصيل الرشاد، وتاركا سبل الرقاد وجاهدًا، هل يكون النازل والمنزل عليه شيئا واحدا؟ كلا بل لا بد من أن يكونا شيئين متغائرين، كما لا يخفى على ذى العينين، وعلى سائر العاقلين. فأي دليل أكبر من هذا لقوم منصفين، الذين ينثالون إلى الحق موجفين، ولا يتركون الصراط كعمين؟ وأي فرق في الروح النازل على عيسى والروح الذي أُعطى لموسى كليم رب العالمين؟ ألا تتفكرون يا معشر الظالمين وتسقطون على أراجيف الكاذبين؟ ألا تقرأون في التوراة الإصحاح الحادى عشر ما قيل إنه قول أصدق القائلين، وهو أنّ الربّ قالَ لِمُوسى فأنزل وأنا أتكلم معك، وآخذ من الروح الذي عليك وأضع عليهم، أي على أكابر أمته، وهم كانوا سبعين. وكذلك نزل هذا الروح على جد عيسى ومرشده داؤد ويحيى وغيرهما من النبيين ولا حاجة إلى أن نطول الكلام ونضيع الأوقات ونزيد الخصام، فإن الخواص من النصارى والعوام يعرفونه وما كانوا منكرين. فلم لا تستشفّ أيها الجهول والغبي المعذول في كتب طرح اترتے اور اپنے پر آتے دیکھا۔ پھر یسوع روح سے جنگل کی طرف چلا گیا تا شیطان سے آزمایا جاوے۔ پس اس سے ثابت ہوا که روح القدس مسیح پر ایسا ہی نازل ہوا جیسا کہ ابراہیم اور اسمعیل اور دوسرے نبیوں پر سو خدا سے ڈر اور حق الامر کے ڈھونڈھنے کی فکر کر مگر اس فکر میں کوشش کر اور نیند کی راہوں سے الگ ہو کیا نازل اور منزل علیہ ایک ہی چیز ہو سکتے ہیں بلکہ یہ بات ضروری ہے کہ وہ دو متغائر چیزیں ہیں جیسا کہ عقلمندوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس منصفوں کے لئے اس سے بڑھ کر اور کونسی دلیل ہو گی وہ منصف جو حق کی طرف متوجہ ہو کر دوڑتے ہیں اور راہ کو اندھوں کی طرح نہیں چھوڑتے اور کونسا فرق ان دو روحوں میں ہے جو حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ پر نازل ہوئیں اے ظالمو! کیا تم کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور جھوٹوں کی خبروں پر گرے جاتے ہو۔ کیا تم تو رات کے گیارہویں باب میں وہ کلام نہیں پڑھتے جس میں کہا گیا ہے کہ اس خدا کا کلام ہے جو اپنی باتوں میں سب سے بڑھ کر سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ رب نے موسیٰ کو کہا کہ میں اتروں گا اور تجھ سے کلام کروں گا اور اس روح میں سے لوں گا جو تجھ پر ہے اور ان پر ڈالوں گا یعنی بنی اسرائیل کے اکابر پر جو ستر آدمی تھے۔ اور اسی طرح روح حضرت عیسسٰے کے دادے اور اس کے مرشد یحییٰ پر بھی نازل ہوئی اور ایسا ہی دوسرے نبیوں پر ۔ اور کچھ ضرورت نہیں کہ ہم اس کلام کو طول دیں اور وقت کو ضائع کریں اور جھگڑے کو بڑھاویں کیونکہ نصاریٰ ان تمام باتوں کو جانتے ہیں اور منکر نہیں ہیں۔ پس اے نادان کیوں اپنی نظر کو پہلی کتابوں میں عمیق حد تک نہیں پہنچاتا اور کیوں نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور صحیح عقیدے کا دشمن ہو رہا ہے اور ہدایت کی راہ پر نہیں آتا۔ ہم تجھے ایک شہد پیاس بجھانے والا دیتے ہیں اور تو ایک تیز زہر کی طرف دوڑتا ہے تا اس کو پی لے کیا تیر امر نے کا ارادہ ہے۔ اور یہ جو تو نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں مسیح کا نام روح من اللہ رکھتا ہے اور اس کا نام بشر نہیں