The Light of Truth — Page 192
192 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE أيها المتنصرون والعادون العمون لقد جئتم شيئًا إدا ، وجزتم عن القصد جدا. تعبدون من مات وفات، وعظمتم العظام الرُّفات، وغمصتم الصادقين. وفيكم من إذا كُلَّمَ كَلَّمَ، وَإِذا سُلَّمَ ثُلَّمَ. تقولون إنا لقنا الحلم، وعُلِّمنا السلم، ولكنا لا نجد فيكم قارع هذا " الصَّفات وقريع هذه الصفات، بل نجدكم حريصين على الضر، وراغبين في إيصال الشر. تسبّون الأخيار، وتلعنون الأبرار، وتختالون من الزهو، وتنصتون إلى اللهو، وما تنصرتم إلا لتكونوا ذوى جُزدٍ مربوطة وجِدَةٍ مغبوطة، ولتميسوا في رياش، وتتخلصوا من فكر معاش، وتجدوا ما تشتهى الأنفس وتتلذ الأعين، ولتتجنّوا قطوف اللذات فارغين. ووالله إن فسق النصارى قد عظم في الديار، وأخنوا على الناس بأنواع التبار. السخت أبدانهم من أوساخ الذنوب، فما مالوا إلى الذنوب، وبلغ أمرهم من كثرة الأدران إلى الحمام، فما عجوا إلى الحمام، وصاروا بادئ الجردة كالأنعام، فما آلوا إلى حلل الإنعام، وأحبوا الذهب، والإيمان فر وذهب، فأكتوا على الدنيا خائنين. وكذلك زادت منهم سموم الطغيان، وركدت ريح الإيمان، حتى صار الزمان ١. سهو والصحيح «هذه». الناشر اے عیسائیو اور حد سے تجاوز کرنے والے اندھو تم ایک عجیب بات لائے اور یقیناً تم نے راہ راست کو چھوڑ دیا تم نے اس کو خدا پکڑا جو مر گیا اور گزر گیا اور بوسیدہ ہڈیوں کی تعظیم کی اور صادقوں کا تم نے عیب پکڑا اور تم میں ایسے شخص بھی ہیں کہ جب ہمکلام ہوں تو بد گوئی سے دلوں کو آزار پہنچاویں اور جب بدی کا جواب نہ دیا جاوے اور بے گزند رکھا جائے تو اور بھی رخنہ ڈالیں۔ اپنی زبان سے تو یہ کہتے ہو کہ ہم کو علم سکھایا گیا ہے اور صلح کاری کی تعلیم ہوئی ہے مگر ہم تم میں ایسا شخص نہیں پاتے جو اس تعلیم کے پتھر کو ٹھوکنے والا اور ان صفتوں کا مالک ہو بلکہ ہم تو تم کو دکھ دینے پر حریص پاتے اور شرارت کرنے پر راغب دیکھتے ہیں تم نیکوں کو گالیاں دیتے اور راستبازوں پر لعنت بھیجتے ہو اور تمہارے ناز کی چال میں تکبر بھرا ہوا ہے اور لہو لعب کی طرف گرے جاتے ہو اور عیسائی ہونے سے تمہاری یہی غرضیں ہیں کہ تمہارے طویلوں میں گھوڑے ہوں اور قابل رشک دولت مندی تم کو حاصل ہو اور لباس فاخرہ میں تم لٹکتے پھرو اور معاش کی فکر سے فارغ ہو جاؤ اور تم کو وہ سب چیزیں مل جائیں جن کو تمہارے نفس چاہتے ہیں اور جن سے تمہاری آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور تاکہ تم اپنی لذتوں کے چنے ہوئے پھل فارغ بیٹھ کر کھاؤ۔ اور بخدا نصاری کا فسق ملکوں میں بڑھ گیا ہے اور قسم قسم کی ہلاکت میں لوگوں کو ڈال د ہے ان کے بدن گناہوں کی میل سے میلے ہو گئے مگر انہوں نے نہ چاہا کہ پانی کا بھرا ہوا بو کا ان کو ملے اور میلوں کی کثرت سے ان کی نوبت موت تک پہنچی پس انہوں نے حمام کی طرف رغبت نہ کی اور چار پاؤں کی طرح ننگے ہو گئے اور انعام کے لباس کی طرف توجہ نہ کی اور سونے سے پیار کیا اور ایمان بھاگ گیا سو دین سے نومید ہو کر دنیا پر گرے اور اسی طرح ان سے گمراہی کی زہریں پھیلیں اور ایمان کی ہوا تھم گئی یہاں تک کہ زمانہ ایسا ہو گیا جیسی دیا