The Light of Truth — Page 154
154 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الواقعة متعلقة بالقيامة ولها كالعلامة، فإن الله تعالى ذكر هذه القصة في ذكر قصة الجنة ونعمائها العامة، ثم صرح بتصريح آخر وقال ذلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ، ولفظ اليوم الحق في القرآن بمعنى القيامة، ويعلمه كل خبير أمين. فانظر كيف بين أنها واقعة من وقائع يوم الدين، ثم انظر كيف يفترون الذين في قلوبهم مرض ولا يخافون الله وما كانوا متقين. فالحاصل أن الآية لا تؤيد زعم هذا الواشى بل تمزقه، وبها يقع القول عليه وتجعله الآية من الكاذبين. فإنه يقول إن عيسى إله وابن إله، ويقول إن الروح هو الله وعينه، والآية تبدى أن هذا مينه، وتبدى أن الروح الذي ذكر ههنا هو عبد عاجز تحت حكم الله وقدره، وما كان له خِيرَةٌ فى أمره، وإن هو إلا من الطائعين، وما كان له أن يشفع من غير إذن الله، لأن الله عز وجل قال في هذه الآية يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ صَوَابًا وأُشير في آية عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ٢ إلى أنه تعالى لا 1. سورة النباء : ٣٩ الناشر ۲. بنی اسرائیل : ۸۰ الناشر تعالیٰ نے کھول کر بیان کر دیا کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے پھر تو غور کر کہ وہ لوگ جن کے دل بیمار ہیں اور ان کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں کیونکر افترا پردازیاں کر رہے ہیں اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہ آیت اس نکتہ چین کے زعم کی کچھ موید نہیں بلکہ یہ تو اس کے قول کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے اور اس کے ساتھ بات اسی پر پڑتی ہے اور یہ آیت اس کو جھوٹوں میں سے ٹھہراتی ہے کیونکہ اس نکتہ چین کا یہ قول ہے کہ عیسیٰ خدا اور خدا کا بیٹا ہے اور کہتا ہے کہ روح خدا کو ہی کہتے ہیں اور روح اور خدا ایک ہی ہے اور آیت ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اس کا جھوٹ ہے اور نیز ظاہر کرتی ہے کہ وہ روح جس کا ذکر اس جگہ ہے وہ ایک بندہ عاجز ہے جس کو خدا کے کسی امر میں اختیار نہیں اور کچھ نہیں صرف فرمانبردار ہے اور نیز یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس روح کو شفاعت کا اختیار نہیں اور شفیع وہی ہو گا جس کو اذن ملے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں صاف فرما دیا ہے کہ اس روز یعنی قیامت کے دن روح اور فرشتے کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے بارے میں کوئی بول نہیں سکے گا مگر وہی جس کو خدا تعالے کی طرف سے اجازت ملے اور کوئی نالائق شفاعت نہ کرے اور آیت عسى ان يبعث میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ مقام محمود بجز اپنے برگزیدہ نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو عنایت نہیں کرے گا اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت مراد ہے جن پر روح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ