The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 566

The Light of Truth — Page 136

THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وَكُلُّ النُّوْرِ فِي الْقُرْآنِ لَكِنْ يَمِيلُ الْهَالِكُوْنَ إِلَى الدُّخَانِ به نِلْنَا تُرَاثَ الْكَامِلِينَا به سِرْنَا إِلَى أَقْصَى الْمَعَانِي فَقُمْ وَاطْلُبْ مَعَارِفَةَ بِجُهْدِ وَخَفْ شَرَّ الْعَوَاقِبِ وَالْهَوَانِ أَتَخْطُبُ عِزَّةَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةُ أَتَطْلُبُ عَيْشَهَا وَالْعَيْشُ فَانِي أَتَرْضَى يَا أَخِي بِالْخَانِ حُمْقًا وَتَنْسَى وَقْتَ تَبْدِيلِ الْمَكَانِ فَكَمْ شَجَرٍ يُجَاحُ مِنَ الْإِهَانِ على بُسْتَانِ هَذَا الدَّهْرِ فَأْسٌ وَكَمْ عُنُقِ تُكَسِّرُهَا الْمَنَايَا وَكَمْ كَفَّ وَكَمْ حُسْنِ الْبَنَانِ اور تمام اور ہریک قسم کے نور قرآن ہی مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں میں ہیں ہم نے اس کے وسیلہ سے کاملوں کی وراثت پائی ہم نے اس کے وسیلہ سے حقیقتوں کے اخیر پس اٹھ اور کوشش کے ساتھ اس کے معارف طلب کر تک سیر کیا اور انجام بد اور ذلت کی بدیوں سے خوف کر کیا تو اس دنیا ناکارہ کی عزتوں کا طالب ہے کیا تو اس دنیا کے عیشوں کو ڈھونڈتا ہے اور اس کے تمام عیش فانی ہیں اے بھائی کیا تو سرائے میں رہنے میں اپنے اور اس وقت کو بھلا دیا جو تبدیل مکانی کا حمق سے راضی ہو گیا وقت ہے اس دنیا کے باغ پر تبر رکھا ہے سو بہت سے درخت جڑ سے اکھیڑے جارہے ہیں اور موتیں بہت سی گردنوں کو توڑ رہی ہیں اور بہت ہتھیلیاں اور بہت سی خوبصورت پوریں ٹوٹی چلی جاتی ہیں 136