The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 566

The Light of Truth — Page 130

130 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE وَرِثْنَا الصُّحُفَ فَاقَتْ كُلَّ كُتُبِ وَجَاءَتْ بَعْدَ مَا خَرَّتْ خِيَامُ مَحَتْ كُلَّ الطَّرَائِقِ غَيْرَ بِرٌ كَأَنَّ سُيُؤْفَهَا كَانَتْ كَنَارٍ وَسَبَقَتْ كُلَّ أَسْفَارٍ بِشَأْنِ وَخُرِّبَتِ الْبُيُوتُ مَعَ الْمَبَانِي وَجَنَّتْ رَأْسَ بِدْعَاتِ الزَّمَانِ إِذَا اسْتَدْعَى كِتَابُ اللهِ مِثْلًا وَسُلِبَتْ جُرْئَةُ الْإِسْنَافِ مِنْهُمْ فَمِنْ عَجَبٍ أَكَبُّوْا مِثْلَ مَيْتٍ بِهَا حُرِقَتْ مَخَارِيقُ الْأَدَانِي فَعَيَّ الْقَوْمُ وَاسْتَتَرُوْا كَفَانِي مِنَ الْهَوْلِ الَّذِي حَلَّ الْجَنَانِ وَقَدْ مَرَنُوا عَلَى لُطْفِ الْبَيَانِ ہم اس کتاب کے وارث بنائے گئے جو سب ایسی کتاب جو اپنے کمالات میں تمام کتابوں کتابوں پر فائق ہے پر سبقت لے گئی ہے اور اس وقت آیا جب کہ سب پہلے خیمے منہ اور تمام گھر مع بنیاد کی جگہوں کے خراب ہو کے بل گر چکے تھے چکے تھے ہر یک راہ کو بغیر نیکی کے راہ کے معدوم کر دیا اور ان تمام بدعتوں کا سر کاٹ دیا جو زمانہ میں شائع تھیں گویا اس کی تلواریں ایک آگ کی طرح تھیں ان سے وہ تمام گد کے جل گئے جو سفلہ لوگوں کے ہاتھ میں تھے جب کتاب اللہ نے اپنی مثل کا مطالبہ کیا سو قوم مقابلہ سے عاجز ہو گئی اور فنا شدہ چیز کی طرح چھپ گئی اور پیش قدمی کی ہمت ان سے مصلوب ہوگئی ایک تھی محبت الہی تھی جو ان کے دل میں اور یہ ہیبت سو یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ مردہ کی طرح حالانکہ وہ فصیح کلمات کی مشق اور عادت منہ کے بل جا پڑے رکھتے تھے