The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 566

The Light of Truth — Page 120

THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE جَرَتْ حُزْنًا عُيُونُ مِّنْ عُيُونِي بِمَا شَاهَدْتُ فِتَنَّا كَالدُّخَانِ فَهَلْ وَجَدَتْ تَعَالَى مِثْلَ وَجْدِي أَذًى أَمْ هَلْ لَّهَا شَأْنُ كَشَأْنِ وَكَمْ مِّنْ ظَالِمٍ يَبْغِي فَسَادًا وَقِسِّيْسِيْنَ أَصْلُ الْإِفْتِنَانِ تَفَاحُشُهُمْ تَجَاوَزَ كُلَّ حَدٌ كَانَّ غِذَاءَهُمْ فُحْشُ اللِّسَانِ فَكُنْتُ أُطَالِعَنَّ كِتَابَ سَابٌ وَتُمْطِرُ مُقْلَتِي مِثْلَ الرَّثَانِ رَأَيْنَا فِيْهِ كَلِمًا مُّحْفِظَاتٍ وَسَبَّ الْمُصْطَفَى بَحْرَ الْحَنَانِ صَبَرْتُ عَلَيْهِ حَتَّى عِيْلَ صَبْرِي وَنَارُ الْغَيْظِ ثَارَتْ فِي جَنَانِي میری آنکھوں سے مارے غم کے چشمے بہ نکلے جبکہ میں نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا جو دھوئیں کی مانند اٹھ رہے ہیں پس کیا وہ عورتیں جن کے لڑکے مر جائیں کیا دکھ کے وقت ان کا ایسا حال ہوتا ہے جو ایسا غم کرتی ہیں جو میں کرتا ہوں میرا حال ہے بہتیرے ظالم یہی چاہتے ہیں جو دنیا میں فساد اور توحید میں فتنہ اندازی کی جڑ پادری لوگ ہیں اور گناہ پھیلے پادریوں کی بد گوئی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے گویا بد زبانی ان کی غذا ہے۔ میں نے ایک ایسے شخص کی پادریوں میں سے سو میں اس کتاب کو دیکھتا تھا اور میری آنکھوں سے مینہ کی طرح آنسو جاری تھے کتاب دیکھی جس نے گالیاں دی ہیں ہم نے اس کتاب میں وہ کلمے دیکھے جو غصہ اور دیکھا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلعم کو دلانے والے تھے گالیاں نکالی ہیں جو بخشائش کا دریا ہے میں نے اس بات پر صبر کیا یہاں تک کہ اور غصہ کی آگ مجھ میں بھڑ کی صبر کرتا کرتا ہار گیا 120