The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 566

The Light of Truth — Page 112

112 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE في تصاريف الزمان، ولا مثيلهم فى نوع الإنسان. يقتحمون الأخطار ليضلوا الديار، ويبذلون المال للذي رغب إلى دينهم ومال، وتجدهم في كل تلبيس وسيع المورد، وفى كل خداع مبسوطة اليد، وتجدهم في كل كيد ماهرين. وكما أنّ المسيح يسميهم الدجالين فاعلى الظلم كذلك القرآن سماهم دجالين، وقال يَأَهْلَ الْكِتَبِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُونَ يعنى لم لا تتجافون عن الاشتطاط في تحريف كلمات الله وأنتم تعلمون أن الصدق وسيلة الفلاح والكذب من آثار الطلاح؛ وفي التزام الحق نباهة وفي اختيار الزور عاهة، فإياكم وطرق الكذابين. فأشار الله في هذا أن علماء النصارى هم الدجالون المفسدون أعداء الحق وأهله. نسوا ظلمة الرمس فلا يذكرون ما ثُمَّ، وحب الشهوات فيهم عَمَّ وتَمَّ وغاب أثر الدين. وأُشْرِبَ حتى ونَبَّأني حدسي أنهم لا يمتنعون ولا ينتهون حتى يروا مثل سنن الله التي خلت من قبل، ويروا أبا غمرة، الذي يُضرم في الأحشاء الجمرة، ويكونوا كجريحٍ نُوبَ متألمين. فحاصل 1. آل عمران: ۷۲ الناشر کی علامت ہے اور حق کے اختیار کرنے میں نیک نامی اور جھوٹ کے اختیار کرنے میں آفت ہے سو تم کذابوں کا طریق چھوڑ دو۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا کہ نصاریٰ کے علماء در حقیقت دجال اور مفسد ہیں اور حق اور حق پرستوں کے دشمن ہیں قبر کی تاریکی کو بھلا دیا سو وہ اس خوف کو جو اس جگہ ہے یاد نہیں کرتے اور نفسانی شہوتوں کی محبت ان میں پھیل گئی اور کمال تک پہنچ گئی اور دین کانشان گم ہو گیا۔ اور میری دانش اور میری فراست یہ خبر دیتی ہے کہ یہ کرسٹان تو عیسائی فساد سے باز نہیں آئیں گے جب تک خدا تعالیٰ کے ان قوانین قدیمہ کو نہ دیکھ لیں جو پہلے گزر چکے ہیں اور جب تک ایسی بھوک کو نہ دیکھ لیں جو اندر کو جلاتی ہے اور جب تک ایسے درد ناک نہ ہو جائیں جیسا کہ کوئی حوادث کا مارا ہوتا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہی لوگ دجال معہود ہیں اور میں مسیح موعود ہوں اور یہ وہ فیصلہ ہے جس پر قرآن اور انجیل دونوں اتفاق رکھتے ہیں اور اس کو موکد طور پر خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے پس کیا وجہ کہ تم ایسے فیصلہ کو قبول نہیں کرتے جس پر دو عادل حاکموں نے اتفاق کیا ہے کیا تم ایک کھلے کھلے امر سے گریز کرتے اور اپنی آبرو کو رسوائیوں کا نشانہ بناتے ہو اور ایک نصیحت دینے والے کی مخلصانہ نصیحت سے کنارہ کش اور مشتعل ہو کر گالیاں نکالتے ہو تمہیں کیا ہو گیا کہ تم ان باتوں سے متنبہ ہو کر نہیں ڈرتے اور تمہارے آنسو جاری نہیں ہوتے اور تمہارے بدن پر لرزہ نہیں پڑتا اور پشیمان ہو کر توبہ نہیں کرتے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہونی اور نادر باتیں تمہارے عقیدوں میں داخل ہیں اور تم نے اصل کو چھوڑ دیا اور زائید اور بے اصل باتوں پر جھک گئے اور پہلوں اور پچھلوں کی تم نے مخالفت کی۔ تم کیوں ایک بلانے والے کی آواز کو نہیں سنتے اور چرانے والے کے پیچھے نہیں چلتے بلکہ تم سانپوں کی طرح کاٹتے اور دوڑنے والے بھیڑیئے کی طرح حملہ کرتے ہو اور تم اپنے چلنے کے وقت نہ سنتے نہ بولتے نہ دیکھ سکتے اور تکبر اور غرور میں چلے جاتے ہو۔ اور تمہیں دعوت