The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 566

The Light of Truth — Page 110

THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE 110 متمولين. وهذا هو الذى كُتِبَ فى الصحف الأولى. أن الثعبان الذى هو الدجال يلبث في السجن إلى ألف سنة ثم يخرج بفوج من الشياطين، فليتذكر من كان من المتذكرين. كذلك خُلّصوا بعد الألف وتناسوا ذمام الله ونكثوا عهوده واحفظوا ربهم مجترئين. وجمعوا كل جهدهم لإضلال الناس، واستجدوا المكائد كالخنّاس، وجاء وا بسحر مبين. وأضاعوا التقوى والعمل الصالح، واتكأوا على كفارة لا أصل لها، واتبعوا كل إثم واستعذبوا كل عذاب، وكذبوا المقدسين. وتجنوا وقالوا نحن عباد المسيح وأحباؤه، وهيهات أن تراجع الفاسقين مِقَةُ الصالحين. وقد سمعت آنفًا أن المسيح سماهم فاعلى الظلم، وسمعت أن الظلم والدجل شيء واحد، وقد قال الله تعالى أَتَتْ أَكْلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمُ مِّنْهُ شيئًا، أي لم تنقص، وإطلاق الظلم على النقص الذي كان في غير محله أو الزيادة التي ليست في موضعها أمر شائع متعارف في القوم، وهذا هو الدجل كما لا يخفى على المتبصرين. فلا شك أن قسيسى هذا الزمان دجالون كذابون يُهلكون عوام الناس من نفثات فيهم، وكل نوع خداع فيهم. الخثر يلمع من جبهتم، والتلبيس من صورتهم، ولا نجد في مكايدهم ودجلهم نظيرهم ا. الكهف: ۳۴ الناشر میل جول ہو۔ اور تو ابھی سن چکا ہے کہ مسیح نے ان کا نام ظلم کے مر تکب اور بدکار رکھا ہے اور تو نے یہ بھی سن لیا ہے کہ ظلم اور د جالیت ایک ہی چیز ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اس باغ نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں سے کچھ کم نہ کیا اور لفظ ظلم کا ایسی کمی پر اطلاق کرنا جو غیر محل ہو یا ایسی زیادتی پر جو بے موقع ہے ایک ایسا امر ہے جو قوم میں شائع متعارف ہے اور اسی کا نام د جالیت ہے جیسا کہ سمجھ دار لوگوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ کے پادری دجال کذاب ہیں جو عام لوگوں کو اپنے منہ کی پھونکوں اور اپنے فریبوں سے ہلاک کر رہے ہیں فریب ان کی پیشانیوں پر چمکتا ہے اور حق پوشی ان کی صورت سے ظاہر ہے اور ہم ان کے فریبوں اور ان کی دجالیت میں اگلے پچھلے زمانہ میں کوئی نظیر نہیں پاتے اور نہ نوع انسان میں ان کی مانند دیکھتے ہیں مشکل جگہوں میں گمراہ کرنے کے لئے دھس جاتے ہیں اور بہت سے مال ایک ایسے آدمی پر خرچ کر دیتے ہیں جو ان کے دین کی طرف رغبت کرے اور ہر ایک فریب میں ان کا ایک بڑا وسیع گھاٹ ہے اور ہر یک مکر میں بڑے لمبے ہاتھ ہیں اور وہ ہر ایک منصوبہ میں ماہر ہیں۔ اور جیسا کہ مسیح علیہ السلام نے ان کا نام دجال رکھا ہے اسی طرح قرآن بھی ان کو دجال کے نام سے موسوم کرتا ہے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے اے اہل کتاب کیوں باطل کے ساتھ حق کو مخلوط کرتے ہو اور تم دانستہ حق کو چھپا رہے ہو۔ یعنی کیوں تم اس بات سے کنارہ نہیں کرتے کہ الہی کلمات کی تحریف میں حد سے زیادہ بڑھے جاتے ہو اور تم جانتے ہو کہ سچائی نجات کا موجب اور جھوٹ تباہی