The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 566

The Light of Truth — Page 108

108 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE الاستفادة ويلتبس الأمر على السالكين. فالظالم هو الذي يحلّ محلّ المحرفين ويبدل العبارات كالخائنين، ويجترء على الزيادة في موضع التقليل والتقليل في موضع الزيادة كَيْفا وكما، أو ينقل الكلمات من معنى إلى معنى ظلمًا وزورًا من غير وجود قرينة صارفة إليه، ثم يأخذ يدعو الناس إلى مفترياته كالخادعين. وما معنى الدجل والدجالة إلا هذا ، فليفكّر من كان من المفكرين. وأُلقي في روعى أن المسيح سمّى الآخرين من النصارى الدجالين لا الأولين، وإن كان الأولون أيضًا داخلين في الضالين المحرفين والسر فى ذلك أن الأولين ما كانوا مجتهدين ساعين لإضلال الخلق كمثل الآخرين، بل ما كانوا عليها قادرين. وكانوا كرجل مُصفّد فى السلاسل ومقرن في الحبال وكالمسجونين. وأما الذين جاء وا بعدهم في زماننا هذا ففاقوا أسلافهم في الدجل والكذب، ووضع الله عنهم أياصرهم وأغلالهم، ونجاهم عن السلاسل التي كانت في أرجلهم ابتلاء من عنده، وكان قدرًا مقضيا من رب العالمين. وكان قدر الله أن يبرزوا بعد ألف سنة من الهجرة حتى ظهروا في هذه الأيام كغُولٍ خُلِّص وأُخرج من السجن، ثم استوى على راحلته لاويًا إلى زافرته وحزب خُلقوا على شاكلته، وكانوا لقبوله مستعدين. ثم أشاعوا كيف شاء وا من أنواع الكفر وأصناف الوسواس وكانوا قوما اگرچہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل تھے اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے۔ سو اس میں بھید یہ ہے کہ پہلے نصاریٰ خلق الله کے گمراہ کرنے کی ایسی سخت کوششیں نہیں کرتے تھے جیسی پچھلوں نے کیں بلکہ وہ ان کوششوں پر قادر نہیں تھے اور ایسے تھے جیسے کوئی زنجیروں میں جکڑا ہوا اور قیدی ہو۔ مگر وہ لوگ جو ان کے بعد ہمارے اس زمانہ میں آئے وہ دجالیت میں اپنے پہلے بزرگوں سے بڑھ گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کا امتحان کرنے کے لئے ان کی ہتھکڑیوں اور ان کے طوق گردنوں کو ان سے الگ کر دیا اور ان زنجیروں سے ان کو نجات دے دی جو ان کے پیروں میں تھے اور یہی ابتداء سے مقدر تھا اور ایک ہزار ہجری گزرنے کے بعد ان کا خروج شروع ہوا یہاں تک کہ ان دنوں میں وہ ایک ایسے دیو کی طرح ظاہر ہوئے جو زندان سے نکلا اور اپنی سواری پر سوار ہوا اور اپنے ان عزیزوں اور اس گروہ کی طرف رخ کر لیا جو اس کے مادہ کے موافق اور اس کے قبول کرنے کے لئے مستعد تھے۔ پھر انہوں نے جس طرح چاہا کفروں کو شائع کیا اور طرح طرح کے وساوس پھیلائے کیونکہ وہ ایک مالدار قوم ہے۔ اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو پہلی کتابوں میں لکھی گئی ہے کہ وہ اثر دہا جو دجال ہے ہزار برس تک قید رہے گا اور پھر ہزار برس کے بعد شیاطین کی ایک فوج کے ساتھ نکلے گا سو اسی طرح وہ ہزار برس کے بعد نکلے۔ اور خدا کی حرمت اور اس کے عہد کو بھلا دیا اور کل عہدوں کو توڑ دیا اور شوخیاں کر کے اپنے رب کو غصہ دلایا اور اپنی تمام کوششوں کو لوگوں کے گمراہ کرنے میں اکٹھا کر دیا اور تمام تدابیر کو کام میں لائے اور تقویٰ اور نیک عمل کو ضائع کیا اور ایسے کفارہ پر تکیہ کر بیٹھے جس کی کچھ بھی اصل نہیں اور ہر ایک گناہ کی انہوں نے پیروی کی اور ہر یک عذاب کو شیریں سمجھ لیا اور پاک لوگوں کی تکذیب کی اور کوشش کی جو ان کے عیب ڈھونڈیں اور کہا کہ ہم مسیح کے بندے اور اس کے پیارے ہیں مگر یہ کہاں ہو سکتا ہے کہ ایسے فاسقوں کے ساتھ نیک بختوں کا