The Light of Truth — Page 106
106 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE البيت قد قام وأغلق الباب . وابتدءتم تقفون خارجًا وتقرعون الباب قائلين يا رب، يا رب افتخ لنا. يجيب ويقول لكم لا أعرفكم من أين أنتم . حينئذ تبتدءون نقولون أكلنا قدامك، وعلّمت في شوارعنا. فيقول أقول لكم لا أعرفكم من أين أنتم تباعدوا عنى يا جميع فاعلى الظلم. هناك يكون البكاء وصرير الأسنان. متى رأيتم إبراهيم وإسحاق ويعقوب وجميع الأنبياء في ملكوت الله وأنتم مطروحون خارجا ويأتون من المشارق والمغارب ومن الشمال والجنوب ويتكئون في ملكوت الله، وهو ذا آخرون يكونون أولين، وأوّلون يكونون آخرين. هذا ما كتبنا من كتابكم إنجيل لوقا بعبارته العربية، وما زدنا وما نقصنا بل رقمناه كما هو هو كالناقلين. وللمستنكرين المستعرفين أن يرجعوا إلى ذلك الكتاب إن كانوا من المرتابين. فلا تضرب عنه صفحا ولا يلفحك الحقد لفحًا، وفكر كالمُنصفين. وانظر أن المسيح سماكم في هذه الآية فاعلى الظلم، وقال أُعرض عنكم في يوم القيامة وأتصدى بالصدود وأقول لستم منى ولا من هذا الجنود، فاخسأوا يا معشر الظالمين الكافرين. وأشار إلى أنكم لبستم الحق بالباطل وتركتم أمره وكنتم قومًا دجالين. وأنت تعلم أن حقيقة الظلم وضع الشيء في غير موضعه عمدًا وبالإرادة لينتقب وجه المحجة ويُسدّ طريق اور جو پہلے ہیں وہ پچھلے ہوں گے۔ یہ وہ مضمون ہے جو ہم نے تمہاری انجیل لو قامیں سے اس کی عربی عبارت میں لکھا ہے اور نہ ہم نے زیادہ کیا اور نہ کم کیا بلکہ جیساوہ تھا ویسا ہی نقل کر دیا ہے۔ اور وہ لوگ جو منکر اور تحقیق کے طالب ہوں ان کو اختیار ہے کہ اگر ان کو ہماری تحریر میں شک ہو تو اس کتاب کو دیکھ لیں پس اس کے انکار میں منہ ٹیڑھا نہ کر ایسا نہ ہو کہ کینہ تجھ کو جلا دے اور منصفوں کی طرح فکر کر۔ اور اس بات میں غور کر کہ حضرت مسیح نے اس آیت میں تمہارا نام ظالم رکھا ہے اور کہا کہ قیامت کے دن تم سے کنارہ کروں گا اور کہوں گا کہ تم میری جماعت میں سے نہیں ہو سواے ظالمو کافرو دور ہو۔ اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ تم نے حق کو باطل کے نیچے چھپا دیا اور تم ایک دجال قوم ہو اور تجھے معلوم ہو کہ ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شئے اپنے موقعہ سے اٹھا کر عمد أغیر محل پر رکھی جائے تا راہ چھپ جاوے اور استفادہ کا طریق بند ہو جاوے اور چلنے والوں پر بات ملتبس ہو جاوے۔ پس ظالم اس کو کہیں گے جو محرفوں کا کام کرے اور خیانت پیشہ لوگوں کی طرح عبارتوں کو بدلا دے اور جرات کر کے کم کی جگہ زیادہ کرے اور زیادہ کی جگہ کم کر دیوے کیا کیفیت کی رو سے اور کیا کمیت کی رو سے اور محض ظلم اور جھوٹ کی راہ سے کلموں کو ایک معنے سے دوسرے معنوں کی طرف لے جائے حالانکہ اس کے فعل کے لئے کوئی قرینہ مدد گار نہ ہو اور پھر اس بناء پر دھوکا دینے والوں کی طرح لوگوں کو اپنے مفتریات کی طرف بلانا شروع کرے اور دجالیت کے معنے بجز اس کے کچھ نہیں پس جو شخص فکر کر سکتا ہے اس میں فکر کرے۔ اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے آخری زمانہ کے نصاریٰ کا نام دجال رکھا اور ایسا نام پہلوں کا نہیں رکھا