The Light of Truth — Page 102
102 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE أنهم يقرون أن عيسى لا يقاتل يأجوج ومأجوج، بل يدعو عليهم عند اشتداد المصائب وهجوم الأعداء كالسهم الصائب، وكذلك يقرءون لفظ النظر في كتب الأحاديث ثم ينسونه ولا يتدبرون كالعاقلين. ختم الله على قلوبهم، فلا يفهمون دقيقة من دقائق المعرفة، ولا نكتة من نكات الحكمة، بل نرى أن ذهنهم مزمهر، ودخنه مكفهر ، فلا يستشفون لآلئ الحقائق، ولا يُمعنون في الدقائق، ويسبحون على سطح الألفاظ، وليسوا في بحر المعاني غواصين. ومن يفهم رجلا ما فهمه الله؟ ومن لم يهده الله فكيف يكون من المهتدين؟ هذه هي العقيدة التي أشهرناها في كتبنا غير مرة، ولأجل ذلك كفرنا وأُوذينا وكذبنا وأفردنا كالذى يترك في البوادي والفلوات منفردا، فنحن في هذه الأوان كغريب في خان، لا كشعب في حماية إخوان. لا نريد الرياسة بل آثرنا الخصاصة، ونبذنا فروة إمارة، ورضينا بعباءة فقر وما بالَينا طَعْنَ نظارة، ولا لوم اللائمين. فلا تبادر يا لاهس كأس قسيسين إلى ظن السوء، ولا تنفُضْ مِذْرَوَيْكَ فَإِنَّ أمرنا متبين واضح وليس شيء في يديك، ولست من الحاكمين. فإن كنت تشتاق أن تستقرى طرق النميمة، فاعلم أنك خائب ولا يحصل لك شيء من غير ظهور سيرك الذميمة، ولا تقدر أن تُخفى ما یہ وہی عقیدہ ہے جس کو ہم نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ ذکر کیا ہے اور انہی امور کے لئے ہم کافر ٹھہرائے گئے اور دکھ دئے گئے اور جھٹلائے گئے اور ہم ایسے اکیلے چھوڑے گئے جیسا کہ کوئی جنگل میں اکیلا چھوڑا جاتا ہے سو ہم اس وقت ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جو سرائے میں اترا ہوا ہو نہ ایسے شخص کی طرح جو فساد کرنے والا اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے مفسدہ پر داز ہو ہم کسی ریاست کو نہیں چاہتے بلکہ درویشی اختیار کی اور ہم نے ریاست کی پوستین کو پھینک دیا اور فقیرانہ گودڑی اختیار کر لی اور دیکھنے والوں کے طعن اور ملامت کی کچھ بھی پرواہ نہ کی سواے پادریوں کے پیالے چاٹنے والے بد ظنی کی طرف جلدی مت کر اور اپنی شرین مت ہلا کیونکہ ہمارا حال روشن ہے اور کوئی بات تیرے اختیار میں نہیں اور نہ تو حاکم ہے۔ اور اگر تجھے یہی شوق ہے کہ نکتہ چینی کی راہوں کو ڈھونڈے پس جان رکھ کہ یہ مطلب تیرا پورا نہیں ہو گا اور تو نامر ادر ہے گا اگر ہو گا تو یہی کہ تیری بُری خصلتیں ظاہر ہوں گی اور تو اس پر قادر نہیں ہو سکے گا کہ جس چیز کو خدا نے ظاہر کیا اس کو چھپاوے اور جس کو خدا نگاہ رکھے تو اس کو ضرر نہیں پہنچا سکتا اور خدا سب محافظوں سے بہتر ہے۔ پس تو ان باتوں سے کنارہ کر اور اپنی دنیا کی تازگی اور سبزہ میں مشغول رہ اور دن رات شراب پی اور دنیا کی مُردار پر خوشی کر اور ان باتوں میں دخل مت دے جن کی لیاقت تجھ میں نہیں اور غضب ناک نہ ہو اور مت بھڑک کیونکہ خدا تعالی کا غضب تیرے غضب سے زیادہ ہے اور اس کی آگ ظالموں کو جلا دیتی ہے۔ اور تعجب کہ بڑے پادریوں نے تجھ میں دھوکا کھایا اور اس وقت تک تجھ کو نہیں پہچانا جیسا کہ حق پہچاننے کا ہے اور تیرے بھید کے پہچاننے اور تیری تہ تک پہنچنے سے قاصر رہے اور تو نے دھوکا دینے والوں کی طرح ان کو کھا لیا۔ ان پر افسوس کہ وہ کیوں