The Light of Truth — Page 100
100 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE فالملخص أن هذا المسلك من مساعيهم التي يسعون، وآرائهم التي ترون، وأنهم قد رسوا عليه وليسوا بالمنتهين الراجعين، بل يخبرون عنه على المنابر ويذكرونه متباشرين. ومن أعظم منيتهم النفسانية أن يجيء مسيحهم الموهوم كالمليك الجبّار، ويقتل كل من في الأرض من الكفار، ويجمع غنائم كثيرة قنطارًا على القنطار، ثم يجعل البطالوي وإخوانه من المتمولين. وأما نحن فلا نعتقد كذلك، بل نعلم أنهم أخطأوا فى هذه الآراء ، وأجنّهم الليل وبعدوا عن الضياء، فما فهموا وما مسوا مسلك المتبصرين، وما سقوا من المعارف النبوية والأسرار الإلهية، بل أكلوا فُضلات قوم ضلوا من قبل ونبذوا كتاب الله وراء ظهورهم ورضوا بأقوال الختارين. وكان سرّ هذه العقيدة من أدق المسائل وأصعبها، فما فهمه آراء سطحية وعقول ناقصة، واختاروا طرقًا دون ذلك مستعجلين. فتم ما جاء في فيج أعوَجَ مِن أصدق الصادقين، وإن في هذا برهانا للمتفكرين. ثم تفضّل الله علينا وكشف هذا السر فضلا ورحما وهو أرحم الراحمين. يرقى من يشاء، ويحطّ من يشاء، ويجعل من يشاء من العارفين. وعلمنا بتعليمه وفهمنا بتفهيمه وأيّدنا بتكريمه وهو خير المؤيدين. وألهمنا أن الحرب حرب روحاني بنظر روحاني. وأعجبني راؤں میں خطا کی اور ایک رات ان پر پڑ گئی اور روشنی سے دور جا پڑے پس انہوں نے کچھ نہ سمجھا اور سمجھنے والوں کے مسلک کو چھوا بھی نہیں اور انہوں نے معارف نبویہ اور اسرار الہیہ میں سے کچھ بھی نہیں پیا بلکہ انہوں نے ان لوگوں کا فضلہ کھایا جو پہلے ان سے راہ کو بھول چکے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو انہوں نے پس پشت پھینک دیا اور ان لوگوں کی باتوں پر راضی ہو گئے جو دھوکا دینے والے تھے اور اس عقیدہ کا بھید بہت باریک اور مشکل مسائل میں سے تھا اس لئے موٹی سمجھ اور ناقص عقل والے اس کو سمجھ نہ سکے اور اور راہیں جلدی سے اختیار کر لیں۔ سو وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو فیج اعوج کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور وہ اصدق الصادقین ہے اور فکر کرنے والوں کے لئے اس میں ایک دلیل ہے پھر خدا تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور فضل اور رحم سے یہ بھید ہم پر کھول دیا اور وہ ارحم الراحمین ہے جس کو چاہتا ہے اوپر لے جاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نیچے پھینکتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عارفوں میں داخل کرتا ہے سو ہم نے اس کی تعلیم سے معلوم کیا اور اس کے سمجھانے سے سمجھے اور اس خیر المؤیدین نے ہم کو مد د دی اور ہمارے رب نے ہمیں الہام دیا کہ مسیح موعود کی لڑائیاں روحانی لڑائیاں ہیں جو روحانی نظر کے ساتھ ہوں گی اور تعجب کہ یہ لوگ پڑھتے ہیں کہ جو عیسی یا جوج ماجوج سے نہیں لڑے گا بلکہ سخت مصیبتوں کے وقت بد دعا کرے گا اور نیز وہ لفظ نظر کا کتب احادیث میں پڑھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں اور عاقلوں کی طرح نہیں سوچتے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی پس وہ معرفت کے دقیقوں میں سے کسی دقیقہ کو اور حکمت کے نکتوں میں سے کسی نکتہ کو بھی نہیں سمجھتے بلکہ ذہن ان کا بہت ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور بادل اس ذہن کا تہ بتہ ہے پس وہ حقیقت کے موتیوں کو عمیق نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور الفاظ کی سطح پر تیرتے ہیں اور معانی کے دریا میں غوطہ نہیں مار سکتے اور ایسے آدمی کو کون سمجھائے جس کو خدا نے نہیں سمجھایا اور جس کو خدا نے ہدایت نہیں دی وہ کیونکر ہدایت یاب ہو جائے۔