The Light of Truth — Page 82
82 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE كل أمر، ولا يغضون الطرف من الحق الذى حصحص ولا يَتَّئِبون من قبول الحق ويطلبون ولا يلغبون ومن طلب فوجد ولو بعد حين. وأما ما خوف الواشى المزور الحكومة البريطانية عن بغاوتنا فما هذا إلا وشاء وشتم، وليس على سرنا ختم، والدولة أعرفُ من هذا الواشى وهى ابن الأيام، وبيتنا عندها في هذه النواح عَلَمُ الأعلام، وتعلم رعاياها طبقًا عن طبق، فلا يخفى عليها غرضُ هذا الواشى وليس بمستور عليها سر فزعه ومقصد جزعه، بل هى تعلم حق العلم أمثاله الذين يريدون مخاتلة الحكّام من سورة تعصبهم وفورة عداوتهم وفساد فطراتهم، وما فى وعائهم إلا سم الفساد، وما في قلبهم إلا مقت الارتداد. أعرضوا عن المهيمن وجلاله، وعثوا في الأرض مفسدين. وقد كتبنا غير مرة أنا نحن من نصحاء الدولة ودواعي خيرها، وكيف وقد جبر الله مصائبنا بها، وأزال بها مرارة حياتنا. وكنا فى أرض محياةٍ، فأُهلك بها كلُّ حيّة كانت حولنا، وإن لها علينا إحسانا عظيما فلن ننسى إحسانها، وإنا من الشاكرين. وأما ما ذكر هذا الواشى قصة جهاد الإسلام، وتظنّى أن القرآن يحثّ على الجهاد مطلقا من غير شرط من الشرائط، فأى زور و افتراء أكبر من ذلك إن كان أحد من المتدبرين؟ فليعلم أن القرآن اور اس نکتہ چین نے جو دولت برطانیہ کو میری بغاوت سے ڈرایا ہے سو یہ تو ایک صرف سخن چینی اور گالی ہے اس سے زیادہ نہیں اور ہمارے بھید پر تو کوئی مہر نہیں ہے اور گورنمنٹ اس نکتہ چین کی نسبت زیادہ واقف اور زمانہ دیدہ ہے اور ہمارا خاندان اس کے نزدیک اس نواح میں اول درجہ کا مشہور ہے اور اپنی رعایا کو وہ درجہ بدرجہ پہچانتی ہے سو اس پر اس نکتہ چین کی غرض پوشیدہ نہیں اور اس پر اس نکتہ چین کے اس جزع فزع کا اصل مقصد چھپا نہیں بلکہ وہ ایسے لوگوں کو خوب جانتی ہے کہ جو حکام کو اپنے جوش تعصب اور عداوت اور فساد فطرت سے دھوکا دینا چاہتے ہیں اور ان کے برتن میں بجز فساد کے زہر کے اور کچھ نہیں اور ان کے دل میں بجز مرتد ہونے کے دشمنی کی اور کوئی بات نہیں خدا تعالیٰ اور اس کے جلال سے ان لوگوں نے منہ پھیر لیا اور زمین میں فساد پر آمادہ ہو گئے ہیں اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے خیر خواہوں میں سے ہیں اور کیونکر نہ ہوں اور خدا تعالیٰ نے اس کے سبب سے ہماری مصیبتوں کو دور کیا اور نیز اس سے ہماری زندگی کی تلخی کو دور فرمایا اور ہم سانپوں والی زمین پر بستے تھے تو اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے ان سانپوں کو ہلاک کیا جو ہمارے گرد تھے اور اس کا ہم پر بڑا احسان ہے سو ہم اس احسان کو بھول نہیں سکتے اور ہم شکر گزار ہیں۔ اور جو اس نکتہ چین نے جہاد اسلام کا ذکر کیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ قرآن بغیر لحاظ کسی شرط کے جہاد پر برانگیختہ کرتا ہے سو اس سے بڑھ کر اور کوئی جھوٹ اور افترا نہیں اگر کوئی سوچنے والا ہو۔ سو جاننا چاہیے کہ قرآن شریف یوں ہی لڑائی کے لئے حکم نہیں فرماتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو ایمان لانے سے روکیں اور اس بات سے روکیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر کار بند ہوں اور اس کی عبادت کریں اور ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لئے حکم فرماتا ہے جو مسلمانوں سے بے وجہ لڑتے ہیں اور مومنوں کو ان کے گھروں اور وطنوں سے نکالتے ہیں اور خلق اللہ کو