The Light of Truth

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 566

The Light of Truth — Page 74

74 THE LIGHT OF TRUTH-PART ONE نعماء أبد الآبدين. بيد أننا لا نرضى بمذهبها، ونحسب أنها من الخاطئين الضالين. وأعجبنا أنها مع كمال حزمها ولطافة فهمها في أمور الدنيا تعبد عبدًا عاجزًا وتحسبه رب العالمين سبحانه لا شريك له، وإن شاء لخلق ألوفا مثل عيسى أو أكبر وأفضل منه ويخلق، ومن يعلم أسراره؟ فتوبوا واتقوا أن تجعلوا له شركاء وأتوه مسلمين وكيف نظن أن عيسى هو الله وما قرأنا فلسفة يثبت منها أن رجلا كان يأكل ويشرب ويبول ويتغوّط وينام ويمرض، ولا يعلم الغيب، ولا يقدر على دفع الأعداء، ودعا لنفسه عند مصيبة مبتهلا متضرعا من أول الليل إلى آخره فما أجيبت دعوته، وما شاء الله أن يوافق إرادته بإرادته، وقاده الشيطان إلى جبل فأتبعه، فما استطاع أن يفارقه، ومات قائلا إيلى إيلى لما سبقتنى، ومع ذلك إله وابن إله سبحانه، إن هذا إلا بهتان مبين. وإني رأيت عيسى عليه السلام مرارًا فى المنام ومرارًا في الحالة الكشفية، وقد أكل معى على مائدة واحدة، ورأيته مرة واستفسرته مما وقع قومه فيه، فاستوى عليه الدهش، وذكر عظمة الله وطفق يسبّح ويقدس، وأشار إلى الأرض وقال إنّما أنا ترابي وبرىء مما يقولون، فرأيته كالمنكسرين شریک نہیں اگر چاہے تو ہزاروں عیسی بلکہ اس سے افضل اور اعلیٰ پیدا کر دے اور پیدا کر سکتا ہے اور اس کے بھیدوں کو کون جانتا ہے پس ان باتوں سے توبہ کرو کہ اس کا کوئی شریک ٹھہر اؤ اور اس کے فرمانبر دار بدل بن جاؤ اور کس طرح ہم گمان کریں کہ عیسی ہی خدا ہے اور ہم نے تو کوئی ایسا فلسفہ نہیں پڑھا جس سے یہ ثابت ہو کہ ایک آدمی کھاتا پیتا بول کرتا پاخانے جاتا سو تا بیمار ہوتا اور علم غیب سے بے بہرہ اور دشمنوں کو دفع کرنے سے عاجز ہو اور مصیبت کے وقت شام سے صبح تک دعا کرے وہ دعا بھی قبول نہ ہو اور خد اتعالیٰ نہ چاہے کہ اپنے ارادہ کو اس کے ارادہ سے متحد کرے اور شیطان اس کو ایک پہاڑ کی طرف کھینچ لے جائے اور وہ اس کو روک نہ سکے اور اس کے پیچھے چلا جائے اور یہ بات کہتا کہتا مر گیا ہو کہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور باوجود ان سب نقصانوں کے خدا بھی ہو اور خدا کا بیٹا بھی۔ اللہ جل شانہ ان عیبوں سے پاک ہے اور یہ صریح بہتان ہے۔ اور میں نے بارہا عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور بار ہا کشفی حالت میں ملاقات ہوئی اور ایک ہی خوان میں میرے ساتھ اس نے کھایا اور ایک دفعہ میں نے اس کو دیکھا اور اس فتنہ کے بارے میں پوچھا جس میں اس کی قوم مبتلا ہو گئی ہے پس اس پر دہشت غالب ہو گئی اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا اس نے ذکر کیا اور اس کی تسبیح اور تقدیس میں لگ گیا اور زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ میں تو صرف خاکی ہوں اور ان تہمتوں سے بری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں پس میں نے اس کو ایک متواضع اور کسر نفسی کرنے والا آدمی پایا اور ایک مرتبہ میں نے اس کو دیکھا کہ میرے دروازہ کی دہلیز پر کھڑا ہے اور ایک کاغذ خط کی طرح اس کے ہاتھ میں ہے سو میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس خط میں ان لوگوں کے نام درج ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کو دوست رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں دوست رکھتا ہے اور اس میں ان کے مراتب قرب کا بیان ہے جو عند اللہ ان کو حاصل ہیں پس میں نے اس خط کو پڑھا سو کیا