خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 798 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 798

خطبات طاہر جلد ۸ صلى الله علوسه محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کا خدا ہے۔ 798 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء پھر یہ الزام تھا کہ قادیانی جن ملائکہ پر ایمان لاتے ہیں وہ ملائک نہیں جن کا قرآن وسنت میں ذکر ملتا ہے۔ اب یہ اعلان کرے کہ ہاں واقعہ میں گواہ ہوں میں نے بطور قادیانی کے ایک مدت گزاری۔ میرا تصور ملائکہ کا بھی بالکل اور تھا اور قرآن وسنت میں وہ تصور نہیں ملتا ۔ ایک الزام یہ بھی تھا کہ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے ہمراہ مرزا طاہر احمد نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ یہ اب وہ تاریخی وہ تاریخیں بتائے ورنہ اعلان کرے کہ منظور چنیوٹی جھوٹا ، آ۔ جھوٹا ، آخر تک جھوٹا ہے۔ وہ سراسر جھوٹے دعووں پر مبنی باتیں تھیں جن کو سچا بیان کرتے ہوئے اس نے مباہلے کو قبول کیا ہے۔ اب اس کی شرافت ، اس کے اخلاق ، اس کی سچائی کا بھی امتحان ہو جائے گا ۔ اگر خدا کے خوف کا کچھ ایک بیج بھی اس میں باقی ہے تو کسی قیمت پر خدا کی اس لعنت کو قبول نہیں کرے گا کہ بر سر عام کھڑے ہو کر یہ اعلان کرے کہ یہ ساری باتیں وہ ہیں جو احمدیوں کے عقائد میں شامل ہیں۔ جو میرے بھی عقیدے ہوا کرتے تھے جو آج تک میرے ماں باپ کے عقیدے ہیں اور اگر اس میں شرافت کا بیج ہے تو پھر اس کا یہ فرض ہے کہ اب اعلان کرے کہ اے میرے نئے استاد! اے میرے نئے پیر! میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو چھوڑ کر جو تیرے ساتھ ، تیرے دامن کو پکڑا ہے اور تیرے پاؤں کو چھوا ہے میں اعلان کرتا ہوں تو سرتا پا جھوٹ ہے۔ تیری ہر بات جھوٹی ، تیرا ہر دعوئی جھوٹا ہے اور جماعت احمدیہ کے متعلق جو تو آج تک اعلان کرتا آیا ہے اور تشہیر کرتا آیا ہے میں گواہ ہوں کہ اس میں سے ایک ایک لفظ جھوٹا تھا اور اس میں سچائی کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ اب اس لولے لنگڑے سے گواہی لیں یا اس کو چھپالیں تیسرا کوئی حل اس کا مجھے نظر نہیں آتا۔ اگر ان کے نزدیک کوئی حل ہے تو وہ پیش کر کے دکھائیں ۔ ا پس جس نشان کو انہوں نے اپنی صداقت بنا کر پیش کیا ہے، تمام دنیا کی جماعت اس بات پر گواہ ہوگئی ہے اور اب تمام دنیا اس بات پر گواہ ٹھہرے گی۔ عودہ کے Reaction کے بعد کہ ہاں منظور چنیوٹی جھوٹا نکلا اور یہ نشان اس کے حق میں ظاہر نہیں ہوا بلکہ اس کے جھوٹ کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے ظاہر ہوا ہے۔ اگر یہ شخص اس عرصے میں تھوڑے عرصے میں ہی اپنی بد نصیبی اور بدبختی میں اتنی ترقی کر چکا ہے کہ ان ساری باتوں