خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 797 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 797

خطبات طاہر جلد ۸ 797 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۸۹ء تھا اور کیا اس کے عزیزوں اور بزرگوں کے اب تک یہی عقائد ہیں؟ 66 پھر اس میں ایک الزام درج تھا کہ ان کی عبادت کی جگہ عزت واحترام میں خانہ کعبہ کے برابر ہے ۔ اب یہ اس گواہ سے گواہی لے کر بتائیں کہ واقعہ جب تک یہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوا اس وقت تک اس کا یہی عقیدہ تھا کہ جماعت احمدیہ کی عبادت گاہیں عظمت اور احترام کے لحاظ سے خانہ کعبہ کے برابر ہیں۔ پھر ان الزامات میں ایک یہ بھی تھا کہ ”بانی سلسلہ احمدیہ نے شرعی نبی ہونے کا دعوی کیا اور نئی شریعت لے کر آئے اور قرآن کریم کے مقابل پر احمدیوں کی کتاب تذکرہ ہے جسے وہ قرآن کے ہم مرتبہ قرار دیتے ہیں ۔ پوچھیں اب اس گواہ سے ، یہ اعلان کرے چنیوٹی صاحب کی صداقت کا کہ واقعہ جب تک میں منظور چنیوٹی صاحب کے ہاتھ پر تائب ہو کر مشرف بہ اسلام نہیں ہوا، میرا یہی عقیدہ تھا کہ بانی سلسلہ احمد یہ شرعی نبی ہیں اور نئی شریعت لے کر آئے ہیں اور وہ نئی شریعت کی بھی نشاندہی کرے کہ کون سی نئی شریعت لے کر آئے ہیں اور پھر یہ بھی بتائے کہ ہاں میرے والدین اور میرے دیگر بزرگ ابھی تک اسلام کے سوا اس نئی شریعت پر کار بند ہیں۔ پھر یہ بھی دعوی تھا کہ احمدیوں کا کلمہ الگ ہے مسلمانوں والا نہیں ۔ وہ کلمہ پڑھ کر سنائے۔ اعلان کرے چنیوٹی کے حق میں کہ ہاں یہ سچ کہا کرتا تھا اور واقعتاً کلمہ الگ ہے اور یہ کلمہ میں پڑھا کرتا تھا اور یہی کلمہ میرے بزرگ آج تک پڑھتے ہیں ۔ پھر اس میں یہ الزام شامل تھا کہ ” جب احمدی مسلمانوں والا كلمه لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں یعنی جب ظاہر ا پڑھتے ہیں تو دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں اور محمد سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ اب یہ اس نشان سے گواہی لیں اور اس کا اعلان شائع کریں کہ یہ 66 صلى الله علي ھتا تھا جب تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوا حضرت رسول کریم ﷺ کا نام جب کلمہ میں پڑھتا اگر پڑھتا تھا تو ہمیشہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیا کرتا تھا اور اس کے بزرگ آج تک یہی کام کرتے ہیں۔ صلى الله پھر اس میں یہ الزام تھا کہ احمدیوں کا خدا وہ خدا نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کا اور قرآن کا خدا ہے ۔ گواہی د لواہی دے اب یہ نشان کہ نکہ واقعہ جب تک میں نے تو یہ نہیں کی میرا خدا وہ خدا نہیں تھا جو 66