خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 418
خطبات طاہر جلد ۴ 418 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء کے بہت سارے حوالے میرے پاس موجود ہیں لیکن انسان ان کو پڑھ نہیں سکتا۔ اور یہ عبارتیں تو اور بھی تعجب خیز اور حیرت انگیز ہیں جو میں پیش کرنے لگا ہوں ۔ ایسی ایسی عجیب بخشیں اٹھائی گئی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ آج کل کے علماء کی طرف سے ایسے ایسے خوفناک لفظ استعمال کئے گئے ہیں شیعہ علماء کی طرف سے بھی اور سنی علماء کی طرف سے بھی ۔ آپ پڑھیں تو حیران رہ جائیں گے ۔ ایک چوٹی کے دیو بندی عالم جو انتہائی مرتبے تک پہنچے ہوئے ہیں، ان کے نزدیک وہ کہتے ہیں: صلى الله ” ملک الموت سے افضل ہونے کی وجہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ علم آپ کا ان امور میں ملک الموت کے برابر بھی ہو۔ چہ جائیکہ زیادہ “ 66 (براہین قاطعہ مصنفہ خلیل احمد مصدقہ رشید احمد گنگوہی صفحه ۴۷) یعنی دیو بندیوں اور بریلویوں کے درمیان اس بات پر بخشیں ہوتی رہی ہیں کہ آنحضرت کا علم کتنا تھا۔ ذرا غور کریں کہ جن لوگوں کو خود کوڑی کا علم نہیں وہ یہ فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں کہ حضرت علم ت اقدس محمدمصطفی سال کا علم کتنا تھا اور پھر دونوں طرف سے گستاخیاں ہوئی ہیں اور بہت صلى الله عروسه خوفناک گستاخیاں ہوئی ہیں۔ پھر یہ بحثیں چلی ہیں کہ آپ حاضر ناظر تھے یا نہیں تھے، آپ حاضر حاضرنا صلى الله عليسة ناظر ہیں یا نہیں ہیں۔ ان بحثوں پر آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک فریق اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ حاضر ناظر ہیں جو نہیں کہتا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ دوسرا فریق جواب دیتا ہے اگر آپ ر ناظر ہیں تو پھر جب آپ اپنی بیویوں سے خلوت کرتے ہیں تو کیا رسول کریم ﷺ موجود ہوتے ہیں۔ جواباً دوسرا فریق کہتا ہے کہ ہاں موجود ہوتے ہیں مگر حیا کی وجہ سے آنکھیں نیچی کر لیتے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ کا کیا تصور ہے جو انہوں نے بنا رکھا ہے۔ ان لوگوں نے نہ تو خدا کا تصور باقی رہنے دیا اور نہ محمد مصطفی ﷺ کا ارفع و اعلیٰ تصور باقی رہنے دیا ۔ ان کی زبانوں کی کاٹ آپ کے دائیں بھی نظر آتی ہے اور بائیں بھی ۔ آپ کے شرقی نور کا بھی کچھ نہیں چھوڑا اور غربی نور کا بھی کچھ نہیں چھوڑا۔ ہر طرف سے آپ کی ذات اقدس پر نا پاک حملے کئے ہیں اور اسلام کو ایسا مسخ کر کے پیش کیا ہے کہ اگر اس اسلام کو پیش کر کے دنیا کو اسلام کی طرف بلایا جائے تو کوئی معقول اور ذی ہوش انسان اس کی طرف منہ بھی نہ کرے لیکن وہ جوان کی اصلاح احوال کے لئے آیا ہے جسے خدا کی طرف