خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 419
خطبات طاہر جلد ۴ 419 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء سے حکم و عدل کی کرسی پر بٹھایا گیا ہے اس پر زبان طعن دراز کرتے نہیں تھکتے۔ دیو بندی مولویوں نے ایک اور موازنہ کیا ہے وہ بھی سنئے :۔ غور کرنا چاہئے کہ شیطان ملکوت الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلا دلیل محض قیاس فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کون سا ایمان کا حصہ ہے۔“ 66 (براہین قاطعہ مصنفہ خلیل احمد صدر مدرسہ دیو بند یہ سہارنپور مصدقہ رشید احمد گنگوہی صفحه ۴۷) یہ عبارت کچھ ایسی ہے کہ شاید بہت سے لوگوں کو سمجھ نہ آئے اس لئے میں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہاں بحث یہ چل رہی ہے اور اس بحث میں یہ باتیں اٹھاتے ہوئے ان کو حیا نہیں آئی کہ نعوذ بالله من ذلک شیطان سے رسول کریم ﷺ کے علم کا موازنہ کر رہے ہیں کہ شیطان لعین سے آپ کا علم زیادہ تھا یا کم ۔ جس کو کسی سے ادنی سی بھی محبت اور احترام ہو وہ اس قسم کا نا پاک مواز نہ کرتا ہی نہیں ۔ آخر کوئی آدمی یہ بحث کیوں نہیں اٹھاتا کہ اس کی ماں فاحشہ عورت تھی یا نہیں اس لئے نہیں اٹھاتا یہ کہ ماں سے سچی محبت ہوتی ہے اس لئے کوئی بھی آدمی اپنی ماں کے خلاف بے حیائی کی بات نہیں سن سکتا لیکن حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ کے علم کا موازنہ شیطان سے کرتے ہوئے کوئی حیا نہیں آئی۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ان کو یہ بات کہنے کی جرات کیسے ہوئی کہ شیطان کا علم زیادہ تھا یا رسول کریم کا تم بڑے فخر اور جوش کے ساتھ یہ ثابت کر رہے ہو کہ رسول کریم ﷺ کا علم شیطان صلى الله۔ عروسة صلى الله صلى الله سے زیادہ تھا اور تمہارا فریق مخالف جوابا یہ کہہ رہا ہے کہ نہیں، شیطان کا علم حضور ا کرم علی سے زیادہ تھا نعوذ بالله من ذلک ۔ یہ ہیں ان کے عشق و محبت کے تذکرے اور یہ ہے ان کا تصور آنحضرت کے بارہ میں گستاخی کی زبان ان کی رکتی نہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں ۔ صلى الله عروسه آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول غیب سے ہی ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض ہے یا کل غیب ۔ اگر بعض امور غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ اگر بعض امور غیبیہ مراد ہیں ایسا علم غیب تو زید ، عمر بلکہ ہر سفیهی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے