خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 417
خطبات طاہر جلد ۴ 417 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء قریش کی ایک مجلس میں رسول اللہ ﷺ نے سورۃ نجم کی آیات أَفَرَءَ يْتُمُ اللَّهَ وَالْعُزَّى وَمَنُوةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى (النجم : ۲۰ - ۲۱) پڑھیں تو شیطان نے آپ کی زبان پر وحی کر کے یہ جاری کر دیا تلك الغرانيق العلى وان شفاعتهن لتر تجی اس پر قریش بہت خوش ہوئے ۔“ صلى الله عروسه ذرا سوچئے! حضرت محمد مصطفی ﷺ پر شیطانی وحی؟ آپ تصور کریں حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح ان کے ذہن میں یہ بات داخل ہوئی کس طرح ان کی قلموں پر جاری ہوئی ۔ اس تفسیر کو تو میں شیطانی وحی کہہ سکتا ہوں لیکن میں یہ نہیں مان سکتا، کبھی نہیں مان سکتا اور نہ کوئی احمدی کبھی مان سکے گا کہ عروسه صلى الله حضرت محمد مصطفی مال کے قریب بھی شیطان پھٹکا ہو۔ یہ روایات ہیں جن کو لے کر پھر دشمنان اسلام نے آنحضرت ﷺ پر نہایت گندے حملے عروسه کئے ہیں اور جب ان کو کھود کر دیکھتے ہیں تو ہر جگہ اس خطرناک فروگزاشت کا ذمہ دار کوئی نہ کوئی سادہ دماغ یا کوئی کم علم مسلمان ہی نظر آتا ہے ۔ آخر سادگی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ میں کیا لکھ رہا ہوں، کس کے متعلق لکھ رہا ہوں ۔ مگر ایسے ایسے نا پاک حملے نعوذ بالله من ذلک حضرت محمد مصطفی ﷺ پر کئے گئے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے چنانچہ تفسیر جلالین میں حضرت زینب صلى الله صلى الله عروسه کے متعلق جو خامہ فرسائی کی گئی ہے خود آنحضرت ﷺ کے تعلق میں ۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ رسول کریم علي کی ذات اقدس پر جو حملہ کیا گیا ہے وہ سنئے :۔ کسی کام کے لئے زید بن حارث کے گھر گئے تو ہوا سے دروازے کا پردہ ذرا اڑا تو حضرت زینب پر نظر پڑی۔ ان کی خوبصورتی پر فریفتہ ہو گئے ۔“ ( تفسیر سورۃ الاحزاب آیت ۳۷-۳۸) 66 اور آگے طلاق والا وہ قصہ ہے جان کٹنے لگتی ہے جب انسان یہ لفظ پڑھتا ہے کہ تمام عصمتوں کے شہزادوں سے بڑھ کر وہ عصمت کا شہزادہ جس سے زیادہ پاکیزگی کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی اس مز کی اور مطہر کے متعلق وہ لکھتے ہوئے ان کا دل نہیں ڈولتا اور ان کی جان نہیں گھٹتی ۔ جان گھٹنے کا کیا سوال ہے وہ تو بڑے مزے لے لے کر ان قصوں کو تفاسیر میں بیان کرتے ہیں ۔ اس قسم