خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 403 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 403

خطبات طاہر جلد۴ 403 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے وضاحت سے تحریر فرمایا کہ قرآن کریم کا ایک نقطہ بھی منسوخ ہوا نہ قیامت تک منسوخ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک کامل کتاب ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گی، اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ لیکن اس قرآن کریم کے متعلق ہمارے مخالف علماء اور پرانے بزرگان نے جو تصورات پیش کر رکھے ہیں ۔ ان میں سے چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ شیعہ مذہب کی تفاسیر میں سے تفسیر صافی“ ایک نہایت ہی معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے اس میں لکھا ہے : اصل قرآن مفقود ہے ۔ موجود سے دس پارے غائب ہیں ۔ بعض آیات میں تحریف و تغیر ہے۔“ ( تفسیر صافی جز و ۲۲ صفحه ۴۱۱ نیز تفسیر لوامع التنزیل جلد ۴ - از سید علی الحائری ) اسی طرح علامہ سید علی الحائری نے لکھا ہے کہ نہ صرف یہ کہ قرآن کریم کے دس پارے مفقود ہیں بلکہ ان مزعومه تلف شده دس پاروں کی کئی سورتوں کے نام بھی گنوائے ہیں اور ایک سورۃ نورین درج کی ہے جو یا ایھا الذین امنواامنوابالنورین اور والحمد لله رب العلمین پر ختم ہوتی ہے۔ تفسير لوامع التنزيل تفسير سورة الحجر جز و ۱۴ صفحه ۱۵ تا ۱۶ از علامه علی الحائری ) رساله نورتن اہل التشیع کا رسالہ ہے۔ ہمارے قاضی محمد یوسف مرحوم جو صوبہ سرحد کے رہنے والے تھے ان کو اصل شیعہ کتب اکٹھی کرنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی لائبریری میں یہ رسالہ موجود ہے۔ اس کے صفحہ ۳۷ پر لکھا ہے : وو قرآن کریم حضرت علی کی طرف نازل ہوا تھا صلى الله یعنی غلطی سے آنحضرت ﷺ پر نازل ہو گیا ۔ مختلف شیعہ کتب میں اس کی توجیہات علي بیان کی گئی ہیں۔ بعض کہتے ہیں شکل ملتی تھی اس لئے جبرائیل علیہ السلام کو دھوکا لگ گیا ۔ حضرت رسول کریم علی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ انہیں حضرت علی سمجھ کر آپ پر قرآن نازل کر گیا۔ بس ایک دفعہ غلطی ہوگئی تو پھر اب مجبوری تھی۔ پس قرآن کریم کی تفسیر کے ذریعہ قرآن کریم پر جو مظالم توڑے گئے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف نہ لاتے تو ان لوگوں نے اس