خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 402
خطبات طاہر جلد ۴ 402 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء میرے فرزند حسن و حسین اور اس کے فرزندوں کا ہے۔“ 66 ( شیعہ رسالہ ” در نجف سیالکوٹ کا الحق مع علی ۱۵ تا ۲۴ فروری ۱۹۶۰ء جلد نمبر ۱ ۵ شماره ۷، ۸ ص ۶۰ ) اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں فرماتا ہے میرے اذن کے بغیر فرشتے دم نہیں مارتے جو کچھ میں کہتا ہوں وہی کرتے ہیں اس سے تجاوز نہیں کرتے (التحریم: ۷ ) لیکن یہاں فرشتوں اور خدا دونوں کے تصور کو بگاڑ کر اس شکل میں پیش کیا جا رہا ہے کہ گویا حضرت علیؓ کے اذن کے بغیر وہ دم نہیں مار سکتے اور حضرت علیؓ کے مقابل پر فرشتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ۔ اسی طرح سرکاری کتابچہ میں قرآن کریم کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ان کا قرآن اور ہمارا اور قرآن کریم کے بارہ میں میں ایک بات بتاتا چلوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے عشق میں جو کچھ لکھا ہے نثر میں بھی اور نظم میں بھی وہ اتنا بے نظیر ہے کہ اس کے مقابل میں گزشتہ تمام بزرگوں کی عبارتیں اکٹھی کر لی جائیں تب بھی کیا حجم میں اور کیا علوم و معارف بیان کرنے میں کوئی نسبت ہی نہیں ۔ پرانے زمانے کے کسی بزرگ کی قرآن کریم کے عشق میں کوئی بھی نظم نکال کر دیکھ لیں جو عشق اور وار شکلی حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام ردانگی کے کلام میں پائی جاتی ہے وہ کسی اور کے کلام میں نہیں ملتی ۔ آپ کیا خوب فرماتے ہیں : دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے ه ( قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۴۵۷) یہ ایسے کلمات ہیں جو ایک عاشق صادق کے سوا کسی کے منہ سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ چنانچہ قرآن کریم کے علوم و معارف سے دنیا کو روشناس کرانے کی جو خدمت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سرانجام دی اور جس قسم کے مبینہ دعوؤں سے اسے پاک ٹھہرایا وہ آپ ہی کا حصہ ہے اور یہ وہ مبینہ دعوے تھے جو بد قسمتی سے مسلمان علماء کی طرف سے کئے گئے تھے۔ مثلاً قرآن کریم شک و شبہ سے بالا ہے لیکن بعض لوگ نسخ فی القرآن کے قائل ہیں اور یہ عقیدہ دراصل قرآن پر سب سے بڑا حملہ ہے کیونکہ جب نسخ موجود ہو اور علماء کو اختلاف کی گنجائش مل جائے کہ کون سی آیت ناسخ ہے اور کون سی منسوخ کتنی آیات ناسخ ہیں اور کتنی منسوخ تو اس سے تو پھر سارے قرآن کریم کا اعتبار اٹھ