خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 404
خطبات طاہر جلد۴ 404 خطبه جمعه ۳ رمئی ۱۹۸۵ء صلى الله قرآن کا تصور ہی باقی نہیں رہنے دینا تھا۔ جو حضرت محمد مصطفی ال فی ﷺ پر نازل ہوا تھا ، جونور ہی نور ہے مگر نور سے نکال کر اندھیرے کی طرف لانے کا جو کمال ان (مولویوں ) کو حاصل ہے یہ بھی حد درجہ کا کمال ہے۔ قرآن ایک ایسی کامل کتاب ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے لَا رَيْبَ فِيهِ (بقرہ:۳) اس کامل کتاب پر انہوں نے ریب اور ظنوں کے پردے ڈال دیئے اور اپنی دانست میں تلاش کر کے ایسے بہت سے اندھیروں کی باتیں لے کر آئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا کا جو تصور قرآن سے ان مولویوں کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر یہی تصور نعوذ بالله من ذلک دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو اسلام کے خدا کو رد کرنے کے لئے یہی ایک عذر دنیا کے لئے کافی ہو گا۔ چنانچہ ایک عالم دین جو بڑے محقق ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں انہوں نے آیات قرآنیہ: وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (يسين : (٢) رَفَعَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا (الرعد (٣) إِنَّ اللهَ يُمْسِكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُ وَلَا ( ناطر : ۴۳) وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ (الانبیاء (۳۲) وغیرہ آیات سے استدلال کرتے ہوئے گردش زمین سے انکار کیا ہے اور لکھا ہے:۔ اور زمین کی گردش بھی نا ممکن ۔ اس لئے کہ پھر تو لازم آتا کہ ہمیشہ انسانی رہائش کے رخ تبدیل ہوتے رہتے ۔ اگر میر امکان صبح جانب مغرب ہے تو شام جانب مشرق اور دو پہر کو کسی اور جانب ۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوتا ۔۔۔۔ نہ آسمان حرکت کرتا ہے نہ زمین ۔ یہ دونوں ساکن و جامد ہیں۔ ( قرآن کریم سے استنباط کرتے ہوئے اس جاہلانہ دلیل کے بعد پھر کہتے ہیں ) غرض یہ کہ بہت جگہ باری تعالیٰ نے گردش زمین و آسمان کی تردید فرما کر موجودہ سائنسدانوں کی تردید فرمائی ۔ سکون زمین و آسمان پر عقلی دلائل بھی بے شمار ہیں 66 مگر فرمان خداوندی کے ہوتے ہوئے ان کی ضرورت ہی نہیں ۔“ العطايا الاحمد یه فی فتاوای نعیمیه صفحه ۱۸۶ تا ۱۸۸) اپنی بے عقلی نعوذ بالله من ذلک ساری کی ساری خدا کی طرف منسوب کر کے چھٹی کر دی ۔ پھر فرماتے ہیں :