خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 12

خطبات طاہر جلد ۳ 12 خطبه جمعه ۶ جنوری ۱۹۸۴ء صلى الله مجھے اپنی بڑی مہربانی کی بنا پر تمہارے دیکھنے سے خوشی پہنچائے ۔ اے میرے بھائیو! میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تمہارے ملک سے محبت کرتا ہوں ، تمہارے راستوں کی ریت اور تمہاری گلیوں کے پتھروں سے محبت کرتا ہوں اور تمہیں دنیا کی ہر چیز پر ترجیح دیتا ہوں ۔ اے عرب کے جگر گوشو! اللہ تعالیٰ نے تم کو بہت بڑی بڑی برکات اور بہت سے فضلوں سے سرفراز فرمایا ہے اور بڑی رحمتوں کا مرجع بنایا ہے۔ تم میں اللہ کا وہ گھر ہے جس کی وجہ سے ام القری کو برکت دی گئی ہے اور تم میں نبی کریم ﷺ کا روضہ ہے جس نے دنیا بھر میں توحید کی اشاعت کی، اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کیا اور تم سے وہ قوم نکلی جس نے اللہ اور رسول ﷺ سے پورے دل اور پوری روح اور پوری عقل کے ساتھ محبت کی اور اپنے مال اور اپنی جانیں اللہ کے دین اور اس کی پاکیزہ ترین کتاب کی اشاعت کے لئے خرچ کر دیں۔ پس تم ان فضائل کے ساتھ مخصوص ہوا اور جس نے تمہاری عزت نہیں کی وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والا ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام " حمامة البشری کے سرورق پر اپنا یہ شعر درج فرماتے ہیں: حَمَا مَتُنَا تُطِيرُ بِرِيشِ شَوْقٍ وَفِي مِنْقَارِهَا تُحَفُ السَّلَام إِلَى وَطَنِ النَّبِيِّ حَبِيبِ رَبِّي وَسَيِّدِ رُسُلِهِ خَيْرِ الْأَنَامِ صلى الله عليه ( حمامة البشری ٹائٹل پیچ روحانی خزائن جلدے ) ہماری حمامہ شوق کے پروں پر اڑتی ہے اور اس کی منقار میں سلام کے تحفے ہیں وہ اڑ رہی ہے میرے رب کے محبوب نبی ﷺ اور اس کے رسولوں کے سردار خیر الا نام کے وطن کی طرف۔ پس یہ ہے وہ عرب قوم جو سب دنیا کی محسن ہے اور عربوں ہی کا احسان ہے کہ اسلام ہم تک پہنچا اور نبی امی حضرت محمد مصطفیٰ لا عرب تھے، اگر کوئی اور وجہ نہ ہوتی تو یہی ایک وجہ کافی تھی کہ ہم اس قوم سے محبت کریں اور اس کے لئے دعائیں کریں اور جس روح اور جذبہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو سلام بھیجے ہیں اور دعائیں دی ہیں اسی روح اور اسی جذبہ اور اسی تڑپ کے ساتھ ہم ان کو سلام بھیجیں ۔ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حمامہ بڑے شوق اور محبت سے سلام کے تحفے اپنی منقار میں لئے ہوئے اس طرف روانہ ہوئی تھی ، آج ہر احمدی