خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 642

خطبات طاہر جلد 16 642 خطبہ جمعہ 29 اگست 1997 ء ( یہ جولاؤڈ سپیکر ہے اس میں ذرا سا میں منہ پھیروں تو آواز ختم ہو جاتی ہے ایسا رکھنا چاہئے کہ جب آدمی کسی طرف منہ کرتا ہے کبھی ادھر منہ کرتا ہے تو آواز کے لیول میں ، جس حد تک وہ آواز مناسب ہے اس میں کمی نہ آئے۔ نہ ضرورت سے زیادہ ره اونچی او ہو۔ ورنہ وڈیوز میں جب ہم دنہ دنیا کو دکھاتے ہیں تو دیکھنے والوں کو بہت عجیب لگتا ہے کبھی اونچی آواز ہوگئی ، کبھی نیچی آواز ہوگئی۔ اب یا تو میں بالکل سامنے یہیں بولتا رہوں اور یا عادت کے مطابق جب حرکت کروں تو پھر یہ آواز ڈوب جائے گی۔ بہر حال میں کوشش کرتا ہوں کہ جس حد تک بھی ممکن ہو آپ تک میں اس کلام کو صاف، کھلے لفظوں میں پہنچا سکوں ۔ ) فرماتے ہیں: وو دیکھو! یاد رکھنے کا مقام ہے کہ بیعت کے چند الفاظ جو زبان سے کہتے ہو کہ میں گناہ سے پر ہیز کروں گا یہی تمہارے لئے کافی نہیں ہیں اور نہ صرف ان کی تکرار سے خدا راضی ہوتا ہے ( آپ چاہتے ہوں گے، اکثر احمدی چاہتے ہیں کہ ہمیشہ بیعت میں شامل ہو جائیں یہ تکرار ہے۔ فرماتے ہیں) بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تمہاری اس وقت قدر ہوگی جبکہ دلوں میں تبدیلی اور خدا تعالیٰ کا خوف ہو۔ ورنہ ادھر بیعت کی اور جب گھر میں گئے تو وہی برے خیالات اور حالات رہے تو اس سے کیا فائدہ۔ یقیناً مان لو کہ تمام گناہوں سے بچنے کے لئے بڑا ذریعہ خوف الہی ہے ۔۔۔“ صلى الله قرآن کریم میں بار بار انبیاء کے متعلق بَشِيرًا وَنَذِيرًا ، بَشِيرًا اور نَذِيرًا کے القاب آتے ہیں ان کا عام انسان مطلب غالبا نہیں سمجھتا۔ وہ بشیر کی حد تک تو سمجھتا ہے، نذیر سمجھتے ہیں کہ وہ غیروں کے لئے ہیں یعنی دوسری قوموں کو ڈرانے کے لئے ۔ یہ غلط نہی ہے جو آپ کے دل سے دور ہونی چاہئے ۔ آنحضرت بشیر بھی تھے اور نذیر بھی اور دونوں کے لئے۔ جو آپ کو ماننے والے تھے ان کے لئے بھی آپ بشیر تھے اور نذیر بھی ساتھ ہی تھے۔ جو غیر قو میں تھیں ان کے لئے بھی آپ بشیر تھے اور نذیر بھی ساتھ ہی تھے۔ تو عموماً میں نے دیکھا ہے کہ مومن سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ مان گئے ہمارے لئے صرف بشیر ہیں اور جو نہ ماننے والے ہیں ان کے لئے نذیر ہیں یعنی ڈرانے والے۔ یہ بالکل غلط تاثر ہے اور اس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے گناہ کی پرورش ہوتی ہے، گناہ کو حوصلہ ملتا ہے اور انسان