خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 641

خطبات طاہر جلد 16 641 خطبہ جمعہ 29 اگست 1997ء یعنی بڑے بڑے سے مراد یہ ہے کہ اپنے ذہن میں یہ تاثر لے کر کہ ہم اپنے موقف پر سخت ہیں اور اس موقف کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا ، یہ خیال رکھتے ہوئے آئے کہ وہ خود بھی توحید کے علمبردار ہیں حالانکہ عیسائیت کی موجودہ شکل میں توحید کا کچھ بھی باقی نہیں رہا لیکن سوال و جواب کی مجالس میں جب اسلام کی توحید کا پرچار ہوتا رہا ہے تو ان کی زبانیں گنگ تھیں، ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں رہا۔ تو اس لئے میں تجربے سے آپ کو بتارہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ تو حید پر زور دیں اور یہ زمانہ ہی توحید پر زور دینے کا ہے اور توحید الہی کو اپنے اخلاق میں جاری کریں تو پھر یہ کلام پر اثر ہوگا۔ اگر اخلاق میں توحید نہ ہو، اگر دل بیٹے ہوئے ہوں جماعتوں کے، اگر ان کے قول اور فعل میں ایک توحید کا رنگ نہ جما ہوا ہو، جو کہیں وہی کرتے بھی ہوں ، اگر ایسا نہ ہو تو پھر توحید کا کلام اور توحید کی دعوت دینا ایک قسم کا ایک بے کار مشغلہ ہو جائے گا۔ میں امید رکھتا ہوں کہ آپ سب لوگ میرے گزشتہ خطبات میں چونکہ ہمیشہ اسی پر زور رہا ہے اس مضمون کو تو یقیناً سمجھ چکے ہوں گے اور اب اس مضمون کو اپنی ذات میں جاری کرنے کا وقت ہے۔ اور اس پہلو سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کچھ ایسے ملفوظات یا تحریرات ہیں جن میں جماعت کو توبہ کی حقیقت اور خدائے واحد و یگانہ کی طرف لوٹنے کی حقیقت کا ایسے عارفانہ رنگ میں بیان ہے کہ انسان توحید کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ، خدا کے خوف کو سمجھنے کے لئے بیعت کے ذریعے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لئے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان کلمات کا محتاج ہے۔ ان کلمات کے بغیر جو ایک عارف باللہ کا کلام ہے حقیقت میں ان مضامین کو ہم گہرائی میں نہیں سمجھ سکتے۔ نام میں تو سمجھتے ہیں مگر اس نام کے پیچھے کیا چیزیں پوشیدہ ہیں، کیا حکمتیں ہیں، ان باتوں کو سمجھنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اب میں براہ راست حضرت اقدس کا کلام آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ بہت سی ایسی باتیں جو ہم سرسری نظر سے دیکھتے ہیں لیکن ان کو آپ نے بہت گہرائی کی نظر سے دیکھا ہے اور ایسے سادہ لفظوں میں ان کو بیان فرمایا ہے کہ کوئی احمدی جو خواہ علم کی کسی سطح پر ہو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹھہر کر پوری توجہ کے ساتھ ان تحریرات کو بار بار پڑھے اور ان کے مضمون میں اترنے کی کوشش کرے۔ اس موقع پر حضور نے لاؤڈ سپیکر کے نظام میں خرابی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: