خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 643
خطبات طاہر جلد 16 643 خطبہ جمعہ 29 اگست 1997ء سمجھ نہیں سکتا کہ گناہ کے مٹانے کے لئے محض بشیر نہیں بلکہ نذیر کی بشیر سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی کو خدا تعالیٰ کا خوف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: وو یقیناً مان لو کہ تمام گناہوں سے بچنے کے لئے بڑا ذریعہ خوف الہی ہے۔ یہ خوف الہی انبیاء دلاتے ہیں۔ انبیاء اگر خوف کی حقیقت سے آپ کو آگاہ نہ کریں تو آپ کو خوف الہی کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ نہیں ہے تو ہرگز ممکن نہیں کہ انسان ان سب گناہوں سے بچ سکے جو کہ اسے مصری پر چیونٹیوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں“۔ ایک مصری کی ڈلی پر جس طرح چیونٹیاں چمٹی ہوئی ہوتی ہیں اس طرح آپ نے فرمایا کہ انسان کے ساتھ گناہ چمٹے ہوئے ہیں کیونکہ انسان ان گناہوں کو مٹھاس مہیا کرتا ہے، ان کی پرورش کے لئے اپنے خون جگر کو ان کے چاٹنے کا موقع دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو گناہ خود بخود جھڑ جائیں گے۔ اگر بیٹھے کی ڈلی مٹھاس چھوڑ دے تو چیونٹیاں خود بخود اس کو چھوڑ کے چلی جائید تو اس بات میں گہری حکمت یہ ہے کہ انسان خود گناہوں کی پرورش کرتا ہے اور گناہوں کے لئے لذت کے سامان پیدا کرتا ہے۔ بظاہر انسان اپنے لئے لذت چاہ رہا ہے مگر حقیقت میں وہ لذت گناہوں کو پہنچتی ہے اور اگر گناہوں کو لذت یابی کے سامان مہیا نہ ہوں تو گناہ آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں گے ان کو کوئی بھی فائدہ آپ کے ساتھ رہنے میں نہیں رہے گا۔ مگر خوف ہی ایک شے ہے کہ حیوانات کو بھی جب ہو تو وہ کسی کا نقصان نہیں کر سکتے ۔“ حیوانات کو اگر خوف ہوگا تو وہ کسی کا نقصان نہیں کر سکتے ۔ مثلاً بلی جو کہ دودھ کی بڑی حریص ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کے نزدیک جانے سے سزا ملتی ہے، پرندوں کو جب علم ہو کہ اگر یہ دانہ کھایا تو جال میں پھنسے اور موت آئی تو وہ اس دودھ اور دانہ کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتے ۔ اس کی وجہ صرف خوف ہے۔“