خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 705 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 705

خطبات طاہر جلد ۱۲ 705 خطبه جمعه ۰ ار ستمبر ۱۹۹۳ء کرو اور اس کے بندوں پر رحم کرو اور ان پر زبان یا ہاتھ یا کسی تدبیر سے ظلم نہ کرو اور مخلوق کی بھلائی کے لئے کوشش کرتے رہو اور کسی پر تکبر نہ کرو گو اپنا ماتحت ہو اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو۔ غریب اور حلیم اور نیک نیت اور مخلوق کے ہمدرد بن جاؤ تا قبول کئے جاؤ ۔ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ : ۱۱) اس اقتباس پر میں آج کے خطبے کا مضمون ختم کرتا ہوں جو کچھ آپ کے سامنے آنحضرت ﷺ کی سیرت کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس الفاظ میں میں نے پیش کیا ہے۔ اسی کا خلاصہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں یہ پیش کر رہا ہوں۔ یہ وہ سیرت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ سب کی ذات میں جاری ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان باتوں کو اپنا لیں یا اپنے وجود کالازمی اور دائی حصہ بن جائیں تو پھر یقین کریں کہ آپ کا حضرت محمدرسول اللہ ہے سے ایک ایسا گہرا اٹوٹ تعلق قائم ہو جائے گا جو تعلق از ما الہی تعلق میں تبدیل ہوگا کیونکہ محمد رسول اللہ کی ذات سے کوئی تعلق آپ کی ذات پر ٹھہرتانہیں بلکہ آپ دروازے کی طرح بن جاتے ہیں یہاں سے وہ تعلق گزر کر خدا تک پہنچتا ہے۔ آپ کے وجود کے مٹنے کا ایک یہ بھی مفہوم ہے جسے آپ ہمیشہ پیش نظر رکھیں وہ لوگ جو خدا کی خاطر اپنے وجود کو مٹاتے ہیں جب ان سے تعلق بڑھتا ہے تو وہ شرک نہیں کہلا تا بلکہ ایسے سچے موحدین کے ساتھ تعلق از خود خدا سے تعلق میں تبدیل ہوتا رہتا ہے کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ سے آپ کا تعلق آپ کی توحید کی بناء پر ہے اس لئے لازماً ہر محبت کا رشتہ الہی محبت کے رشتوں میں تبدیل ہوگا اور یہ مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف وقتوں میں اور مختلف طریق پر ہمیں سمجھانے کی کوشش کی اسے خوب اچھی طرح سمجھ کر تو حید پر قائم ہوں اور غیر اللہ کی نفی شروع کریں۔ غیر اللہ کی نفی سے متعلق انشاء اللہ میں آئندہ خطبات کے سلسلے میں کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ میں ایک دفعہ پھر اس مضمون کو دہراتا ہوں جو توقعات مسیح موعود علیہ السلام کو آپ سے وابستہ ہیں لیکن یاد رکھیں کہ مسیح موعود علیہ السلام بھی محمد رسول اللہ کی طرح موحد تھے۔ آپ ہی کی غلامی میں آپ کو توحید کا فیض عطا کیا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ سے امیدیں وابستہ ہیں ان معنوں میں کہ آپ کی ذات سے توقعات ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقصد کا انحصار آپ