خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 704
خطبات طاہر جلد ۱۲ 704 خطبه جمعه ۰ ار ستمبر ۱۹۹۳ء ہماری حقیقت کیا ہے۔۔“ 66 یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تعلق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بالکل ویسا صلى الله الله بن جاتا ہے جیسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق خدا سے قائم ہوا ؟ اسے قائم ہوا جیسے خدا کے ساتھ تعلق میں اپنے وجود کو مٹا ڈالا اور وہ تعلق تام ہو گیا۔ گویا ایک ہی وجود بن گیا، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اپنے وجود کو کلیہ مٹا ڈالا اور جہاں وہ مضمون بیان کرنا شروع کیا وہاں معاً اس طرف خیال چلا گیا۔ میں بھی تو ہوں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی باتیں کرتا ہوں مگر میں کیا ہوں ۔ مجھے تم مٹا ہوا سمجھو، میرے وجود کو کچھ نہ تسلیم کرو۔ میں تو صرف وہی ہوں جو محمد رسول اللہ ہیں اور محمد رسول اللہ نے مجھے بنا ڈالا ہے۔ اس کے سوا میری کوئی بھی حقیقت باقی نہیں رہی۔ پھر فرماتے ہیں : ” ( اس کے نتیجے میں پھر علامت ظاہری ہونی چاہئے وہ ہے ) زندہ خدا کی شناخت۔۔۔“ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه : ۱۱۹) اور اللہ تعالیٰ کے تائیدی معجزات جو ایسے بندے کے حق میں از خود جاری وساری ہو جاتے ہیں۔ ایک بہتے ہوئے چشمے کی طرح اس کا ساتھ دیتے ہیں اور پھر اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتے ہیں پس جتنا بڑا موحد ہو گا اتنا ہی زیادہ اس کی زندگی میں اس کے تائید میں اللہ تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوں گے اور جتنا بڑا موحد ہو گا اتنا ہی خدا تعالیٰ کے نشانات، اس کے بعد ہمیشہ باقی اور جاری وساری رہیں گے۔ یہ وہی مضمون ہے کہ خدا کی مکانیت اور زمانیت کے لحاظ سے توحید کا اقرار کرنا نہ مکان میں اس جیسا کوئی ہو، نہ زمانے میں اس جیسا کوئی ہو۔ جب آپ زمانے میں بھی خدا کو واحد اور لاشریک مان جاتے ہیں ہر زمانے کا خدا ایک ہی رہتا ہے۔ تو آپ کے مرنے کے بعد آپ کا زمانہ مٹ نہیں جاتا بلکہ خدا کے زمانے میں آپ کا زمانہ جاری ہو جاتا ہے اور یہی واقعہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ کے جاری و ساری زندہ معجزات کی صورت میں ہمارے سامنے ظاہر ہوا اور یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرمارہے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں : اس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش