خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 706
خطبات طاہر جلد ۱۲ 706 خطبه جمعه ۱۰ استمبر ۱۹۹۳ء پر نہیں ہے۔ اگر آپ نے ان امیدوں پر پورا اترتے ہوئے اس پیغام کو آگے بڑھایا تو آپ خوش نصیب ہوں گے لیکن اگر آپ سے جو امیدیں وابستہ کی گئی ہیں ان امیدوں کو آپ نے سچا نہ ثابت کیا تو مسیح موعود علیہ السلام سے جو خدا نے وعدے کئے ہیں وہ پھر بھی پورے ہوں گے۔ میں نہیں ہوں گا آپ نہیں ہوں گے ہم سب خدا نخواستہ نعوذ باللہ اگر ان امیدوں پر پورا نہ اتریں تو خدا اور وجود پیدا کر دے گا کیونکہ توحید کامل کا یہ مطلب ہے انسان سے جو امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں ان پر انحصار نہیں ہوتا۔ کبھی کسی نبی نے کسی انسان پر ان معنوں میں انحصار نہیں کیا۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جو انصار تھے ان پر انحصار نہیں تھا اس لئے ان کا محمد رسول اللہ پر احسان کوئی نہیں تھا اور اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ جائیں تو پھر یہ آپ کو پتا لگے گا کہ مدد آپ کر رہے ہیں لیکن احسان آپ پر ہو رہا ہے کیونکہ وہ شخص جس کی مدد کا کوئی محتاج ہو وہ جب کسی کی مدد کرتا ہے تو اس پر احسان کرتا ہے۔ مگر ایسا شخص جب کسی کی مدد کرتا ہے جو اس کی مدد کا محتاج نہ ہو تو اس کا مد د قبول کرنا اس پر احسان ہو جایا کرتا ہے۔ الله پس ان معنوں میں اچھی طرح سمجھ لیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنا اور آپ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مدد کرنا ہر گز کسی معنوں میں بھی آپ پر احسان نہیں کیونکہ نہ محمد رسول اللہ کا پیغام آپ کی مدد کا محتاج ہے اور نہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ، اس پیغام کو آگے بڑھانا آپ کی مدد کا محتاج ہے۔ یہ خدا کا کام ہے اس نے بہر حال کرنا ہے۔ آپ کو جو تو فیق عطا ہوتی ہے یہ آپ پر احسان ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کو یہ جواب سکھایا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اسلام قبول کر چکے ہیں ، ہمارے احسان ہیں۔ ان سے کہو لَا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ (الحجرات : ۱۸) بیوقوفو! مجھ پر اپنا اسلام نہ جتایا کرو ، مجھ پر اپنے اسلام کا احسان مت دھرو ۔ تم ممنون احسان ہو جن کو اسلام عطا ہوا ہے۔ ہم ممنون احسان نہیں ہیں۔ ایک امیر کی خدمت میں آپ کوئی چھوٹا سا تحفہ پیش کریں وہ محتاج نہیں ہوتا۔ وہ خوشی سے قبول کرتا ہے تو اس کا احسان ہوتا ہے۔ پس ان معنوں میں کبھی بھی، ساری دنیا کا تمام وجود بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے کامل خادم بن جائیں تو ا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایک ادنی سا بھی احسان نہیں کر سکتے ۔ وہ زیرا احسان ہوں گے کیونکہ خدا نے ان کو اس کام کی تکمیل کے لئے چنا ہے۔ الله الله پس آپ بھی اس مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے خدمت دین کے ہر میدان میں آگے