خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 71
خطبات طاہر جلدا 71 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء دین ہے جس کا نام اسلام رکھا ہے۔ پھر نعمت میں جمعہ کا دن بھی ہے جس روز اتمام نعمت ہوا ۔ (یعنی جمعہ کے دن ہی نعمت اپنے پایہ تکمیل کو پہنچی ) یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ پھر تمام نعمت جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کی صورت میں ہوگا وہ بھی ایک عظیم الشان جمعہ ہوگا ۔ وہ جمعہ اب آگیا ہے کیونکہ خدا تعالی نے وہ جمعہ مسیح موعود کے لئے مخصوص رکھا ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں۔ الله یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے کے ذریعے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ گلہ کہہ کر فرمائی تھی۔ یہ وہی زمانہ ہے جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي کی شان کو بلند کرنے والا اور تکمیل اشاعت و ہدایت کی صورت میں دوبارہ اتمام نعمت کا زمانہ ہے اور پھر یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔“ یعنی ایک زمانہ میں تمام بنی نوع انسان کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے جھنڈے تلے جمع کرنے والا جمعہ اور دو مختلف زمانوں کے غلامان محمد مصطفی علی کو ایک جگہ اکٹھا کر دینے والا جمعہ وہی صلى جمعہ ہے جو امام مہدی اور مسیح موعود کی بعثت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ صلى الله اس وقت رسول اللہ ﷺ کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک جماعت صحابہ کی پھر قائم ہوئی ہے۔ اتمام نعمت کا وقت آ پہنچا ہے لیکن تھوڑے ہیں جو اس سے آگاہ ہیں اور بہت ہیں جو ہنسی کرتے اور ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں مگر وہ وقت قریب ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق تجلی فرمائے گا اور اپنے زور آور حملوں سے دکھا دے گا کہ اس کا نذیر سچا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۳ صفحه : ۱۰۴) اب میں پرانے مفسرین کے بعض حوالے آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان تصریحات کی بڑی قوت کے ساتھ تائید ہوتی ہے۔ تفسیر