خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 70

خطبات طاہر جلداا 70 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء سورہ تو بہ میں بھی آئی ہے لیکن ذرا سے اختلاف کے ساتھ یہ مضمون اس دوسری آیت میں بیان فرمایا گیا جو سورۃ الفتح کی ۲۹ ویں آیت ہے اور جس کی میں نے بعد میں تلاوت کی تھی۔ اس میں اللہ تعالٰے فرماتا ہے کہ وہی اللہ ہے جس نے اس رسول رسول یعنی یعنی محمد محمد مصطفی کو کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اس دین کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کر دے۔ وَكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا اور خدا سے بڑھ کر کوئی قابل اعتماد گواہ نہیں ہو سکتا۔ اس بات کے لئے خدا کی گواہی بہت کافی ہے کہ یہ تقدیر لا زما رونما ہو کر رہے گی اور دُنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ یہ وہ پیشگوئی ہے جس کا تعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظہور سے ہے صلى الله اور تمام گزشتہ مفسرین اس بات کو یا لکھ چکے ہیں یا دوسروں کی کتابوں میں پڑھ کر ان سے اختلاف نہیں کیا کہ ان پیشگوئیوں کا تعلق حضرت مسیح سے یعنی مسیح کی بعثت ثانیہ سے اور امام مہدی سے ہے۔اس کے دور میں تمام تمام دنیا کو دین واحد پر جمع کیا جائے گا اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے کامل غلام اور بروز کے طور پر وہ کام جس کا آغاز حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے شروع فرمایا اس کا انجام اور اتمام سیح کے زمانہ میں ہوگا۔ گو یا مہدی اور مسیح کے لئے تمام دنیا کو جمع کرنا مقدر تھا۔ سورہ جمہ بھی جو جمع کا مضمون آنحضرت ﷺ کے بروزی ظہور کے سلسلہ میں بیان فرمایا گیا اس میں یہ بیان فرمایا مهد ہے کہ وہ دو زمانوں کو جمع کرنے والا ہوگا ۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ - (الجمعه (۴) صلى الله میں وہ اُس شان کا وجود ہو گا کہ جو حضور اکرم ﷺ کی بعثت ثانیہ کا مرتبہ رکھتا ہوگا اور آپ ہی کی غلامی با اور آپ ہی کے آغاز کئے ہوئے کاموں کی تکمیل کی خاطر آئے گا اور آخرین میں بسنے والوں کو اولین سے ملادے گا یعنی ان کے ساتھ جمع کر دے گا تو جمع کے مضمون کا سورۂ جمعہ کے ساتھ جو گہرا تعلق رکھتا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ایک گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے اور یہ وہ دعوی ہے جو صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہی نہیں فرمایا بلکہ آپ کی تائید میں بڑے بڑے مفسرین اور مفکرین یہی بات لکھتے چلے آئے ہیں ۔ سب سے پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک عبارت آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جو اتمام نعمت کی ہے ( یعنی نعمت کو تمام کیا ہے ) وہ یہی