خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 72
خطبات طاہر جلداا 72 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۹۲ء قرطبی میں اسی آیت کے تحت یعنی لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ کے تحت لکھا ہے کہ قال ابو هريرة والضحاك هذا عند نزول عيسى عليه السلام و قال السدى ذاك عند خروج المهدى۔ تفسیر قرطبی جلد نمبر ۳ صفحه ۱۸۳-۱۸۴) صلى الله یعنی حضرت ابو ہریرہ اور ضحاکہ ابو ہریرہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا نزول مسیح کے وقت پورا ہو گا اور سدی کہتے ہیں کہ ظہور مہدی پر یہ وعدہ پورا ہوگا ۔ دراصل تو یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور ان دونوں کا یہ کہنا اختلاف کا رنگ نہیں رکھتا بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس وجود کے ذریعے یہ وعدہ پورا ہو گا اس کا ایک نام مسیح ہے اور ایک نام مہدی ہے۔ حضرت امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر کبیر میں اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں میں ترجمہ پڑھ کر سناتا ہوں ۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ اس آیت میں وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام دینوں پر اسلام کو غالب کرے گا اور اس وعدہ کی تکمیل مسیح موعود کے وقت میں ہو گی اور سدی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ مہدی موعود کے زمانہ میں پورا ہو گا ۔“ ( تفسیر کبیر جز و نمبر ۱۶ تفسیر سورۃ التوبه زیر آیت ہذا ) حضرت مولانا اسماعیل صاحب شہید بالاکوٹ اسی آیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صلى الله ظاہر ہے کہ دین کی ابتداء حضرت رسول مقبول ﷺ سے ہوئی لیکن 66 اس کا اتمام مہدی کے ہاتھ پر ہوگا ۔ ( منصب امامت صفحہ: ۷۰ ) اب ایک اور دلچسپ چیز میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے عموماً احمدی بھی واقف نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ناموں میں سے ایک نام جمعہ بھی ہے جو پیشگوئی کے طور پر آپ کے رکھے گئے یعنی امام مہدی کا نام جمعہ بھی ہے جو پہلے سے ہی مذکور چلا آتا ہے۔ چنانچہ النجم الثاقب جلد نمبر ا مؤلفہ مولانا ابوالحسنات محمد عبدالغفور میں یہ درج ہے کہ جمعہ مہدی کے مبارک ناموں میں سے ہے یا آپ کی ذات شریف سے کنایہ ہے یا اس نام سے موسوم ہونے کی وجہ اس کا لوگوں کو جمع کرنا ہے ۔ حضرت امام علی تقی علیہ السلام نے فرمایا۔