خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 181

خطبات طاہر جلداا 181 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۹۲ء عطا کریں گے کہ وہ آئندہ بہتر اور صحیح منصوبہ بنا سکے ۔ اب اس سلسلہ میں تمام جماعت کو براہ راست یہی ہدایت ہے کہ اپنا منصوبہ بناتے وقت خود غور کیا کریں۔ صلاحیتوں کو جانچا کریں ، اپنے ماحول کو دیکھا کریں کہ کس زمین میں کام کر رہے ہیں ۔ پتھریلی ہے، سنگلاخ ہے یا زرخیز ہے۔ ان لوگوں کے احمدیت کے متعلق کیا تاثرات ہیں، دنیا داری میں وہ کہاں پہنچے ہوئے ہیں، ان کو دین کی ضرورت محسوس بھی ہوتی ہے کہ نہیں۔ یہ بہت سے ایسے امور ہیں جن کا تبلیغ کو پھل لگنے سے براہ راست تعلق ہے۔ افریقہ کے بعض ممالک ہیں جن میں دین کی طلب بھی ہے اور فطرتیں سعید ہیں چونکہ غربت ہے اس لئے دنیا داری کے تکبر حائل نہیں ہیں، مادہ پرستی ان کے اور دین کی راہ میں حائل نہیں ہوئی ان امور کے پیش نظر وہاں زمینیں زیادہ زرخیز ہیں اور بعض دنیا دار قو میں ہیں جو نہ صرف یہ کہ دنیاوی اموال اور سیاسی برتری کی وجہ سے باقی دنیا کو نیچا دیکھتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ کسی اور کی احتیاج محسوس نہیں کرتیں، وہ قو میں یہ جھتی ہیں کہ ہمیں کسی اور سے کچھ لینے سکھنے کی ضرورت نہیں ہے ہم تو دنیا کو دینے والے ہیں ، ہم سیاسی اقتصادی ہر لحاظ سے اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں ۔ پس جتنی ان کی احتیاج کم ہوگی اتنا ہی وہ غیر کی بات کم سنیں گے ضرورت محسوس نہیں کریں گے لیکن اس کے علاوہ دنیا کی دولتیں ان کو دنیا کی لذتوں میں اس طرح مگن کر دیتی ہیں کہ اگر غیر کی بات سنیں اور سمجھ بھی آجائے تو وہ لذتیں چھوڑی نہیں جاتیں۔ اس معاشرے سے الگ نہیں ہوا جاتا جو معاشرہ ان کی زندگی کے رگ وپے میں پیوست ہو چکا ہے۔ پس یہاں انگلستان میں جو منصوبہ بنایا جائے یا جرمنی میں بنایا جائے وہ اور ہے افریقہ کا منصوبہ اور ہے جاپان کا منصوبہ اور ہے۔ ملکی حالات کو بھی دیکھنا ہو گا صرف اپنے نفس کا جائزہ نہیں لینا ہوگا پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ میں کتنا وقت دے سکتا ہوں اور کس کو میں نے بلانا ہے اور جس کو بلانا چاہتا ہوں اُس کے لئے میرے پاس بلانے کی صلاحیت بھی ہے کہ نہیں علم بھی ہے کہ نہیں چنانچہ اس پہلو سے ہر شخص اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑائے اور معلوم کرے کہ کون اس کا امکانی ٹارگٹ ہوسکتا ہے۔ ٹارگٹ ہے نشانہ لیکن یہ نشانہ دوسری اصطلاح کا نشانہ ہے دنیوی اصطلاح کا نہیں ۔ اس مضمون کو سے مراد ہے نشانہ سر دست یہاں چھوڑتے ہوئے اب میں نشانے کی بات شروع کرتا ہوں اور پھر دوبارہ اس مضمون کی طرف واپس آؤں گا۔