خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 180

خطبات طاہر جلداا 180 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۹۲ء جو لکھ دیتے ہیں کہ جی! ہم نے سو بنانے ہیں پھر سارا سال Panic میں بڑی گھبراہٹ میں خط لکھتے ہیں کہ اتنے مہینے رہ گئے ابھی تک ایک بھی نہیں بنا ، اتنے ہفتے رہ گئے ابھی تک ایک نہیں بنا خدا کیلئے دعا کریں۔ دعا اپنی جگہ ہے اس کا ایک الگ مضمون ہے، الگ دائرہ ہے۔ منصوبہ ایک الگ چیز ہے اگر آپ منصوبہ خدا کے رنگ میں رنگین ہو کر نہیں بنائیں گے تو وہ دعا جو خدا کے رنگ سے الگ دعا کی جاتی ہے اس میں بھی طاقت پیدا نہیں ہوگی۔ منصوبہ حقیقی بنا ئیں پھر اس کو دعاؤں سے طاقت دیں پھر دیکھیں کہ وہ منصوبہ کیسے کیسے رنگ دکھاتا ہے۔ ایک صاحب ہیں جن کے دو قسم کے کام ہیں ایک دنیوی کام ہے اس میں بھی وہ منصوبہ بناتے ہیں ایک تبلیغی منصوبہ ہے جو دنیوی منصوبہ ہے ۔اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ میرا یہ منصوبہ ہے کہ یہ تجارت یہاں تک پہنچ جائے اور جو تبلیغی منصوبہ ہے وہ یہ ہے کہ میں سال میں ایک سواحمدی بناؤں گزشتہ سات آٹھ سال سے میرا یہ تجربہ ہے کہ ہر سال ان کا دنیوی منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے اور روحانی منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی نیت میں فتور ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس طرف توجہ کم دیتے ہیں اور زیادہ سنجیدگی سے اپنے دنیوی منصوبے کی طرف متوجہ ہیں میں یہ بتانا چاہتا ہوں چونکہ ایک تجربہ کار تاجر ہیں وہ دنیوی منصوبہ بناتے وقت حقائق کو سامنے رکھتے ہیں اور جو ان کی صلاحیتیں ہیں انہی کے پیش نظر منصوبہ بناتے ہیں لیکن جب وہ اپنا روحانی منصوبہ بناتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں کو جانچتے ہی نہیں۔ دیکھتے ہی نہیں کہ ان میں توفیق کتنی ہے کبھی کسی غیر سے بات کر کے دیکھی اس کا دل جیت کے دیکھا یا دکھایا اس پہلو سے اپنے نفس کا جائزہ لینے کے بعد اگر وہ منصوبہ بناتے تو حقیقی ہوتا ۔ پس کوئی بچہ ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت جیسا کہ میں نے گزارش کی ہے جب بھی اپنے گھر میں بیٹھ کر منصوبہ بنائے تو اس کو اپنی حیثیت کا، اپنی توفیق کا ، اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہوگا اور اس کے مطابق منصوبہ بنانا ہوگا اور ایسا منصوبہ بنانے میں کوئی حرج نہیں کہ ایک انسان واقعہ یہ سمجھے کہ میں ایک سال میں ایک احمدی نہیں بنا سکوں گا تو یہ کہے کہ میں اس سال کوشش شروع کروں گا۔ اور اس سال کے تجربہ کی روشنی میں میں سمجھتا ہوں کہ شاید آئندہ سال مجھے پھل لگ جائے اور ایک آدمی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ تین سال میں مجھے پھل لگ جائے اور اس تجربہ میں اگر وہ ساتھ ساتھ دعائیں بھی کرے گا تو پہلے سال کا تجربہ، دوسرے سال کا تجربہ اور تیسرے سال کا تجربہ اس کو اس بات کی لیاقت