خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 148

خطبات طاہر جلد اا 148 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء چیز کے دو نام ہیں ، دو طرز بیان ہیں لیکن بنیادی طور پر بات یہی ہے کہ فیض مصطفے نا پیدا کنار ہے اس کی حد بندی ممکن نہیں ۔ نہ مراتب کے لحاظ سے حد بندی ممکن ہے، نہ زمانے کے لحاظ سے، نہ جگہ کے اعتبار سے ، پس وہ کون و مکان اور وقت کی قید سے آزاد اور بالاتر ایک مرتبہ ہے جو ایسا فیض ہے جو ہر حالت میں پہلوں کو بھی پہنچ سکتا تھا اور پہنچا۔ اس زمانے کے لوگوں کو بھی پہنچ سکتا تھا اور پہنچا اور آئندہ بھی پہنچتا رہے گا اور یہ فیض ایک عظیم الشان وجود کی صورت میں بھی ظاہر ہونے والا ہے جسے آنحضرت کا عظیم روحانی فرزند قرار دیا جا سکتا ہے۔ صلى الله ۔ اس تشریح کے بعد اب جو داعی الی اللہ کا مضمون ہے اس کی طرف واپس آتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ کا فیض کیسے بنی نوع انسان تک پہنچے اور وسعت پذیر ہواور پھیل جائے ۔ اس مضمون میں مومنوں نے کیا کام کرنے ہیں۔ ان کا ذکر اس طرح فرمایا گیا کہ پہلے خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے فرائض کی تعیین فرمادی۔ فرمایا۔ یہ وہ خاتم ہے جس کا فیض ان ذرائع سے دنیا میں پھیل رہا ہے اور پھیلتا چلا جائے گا اور خاتم کا فیض پھیلانے کے لئے سب سے زیادہ اہم ترین ذمہ داری خود حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ پر عائد ہوتی تھی تو فرمایا کہ تو اس طرح اس فیض کو عام کر ۔ فرمایا ہم نے تجھے شاہد بنا کر بھیجا ہے، مبشر بنا کر بھیجا ہے، نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ پیغام لوگوں کو دے۔ اس کے بغیر تیرے آنے کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا اور وضاحت کرتے ہوئے فرمایا وَدَاعِيًّا إِلَى اللهِ اور ہم نے تجھے اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے اور یہ تینوں صفات جو تجھے عطا کی گئی ہیں اسی مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع ہیں۔ صلى الله صلى الله خُدا کی طرف بلانے کا ایک ذریعہ شہادت کا بھی ہوتا ہے اور تبشیر بھی ایک ذریعہ ہے اور اندار بھی ایک ذریعہ ہے اور آنحضرت ﷺ کو یہ سارے ذرائع بڑی شان اور قوت کے ساتھ عطا فرمائے گئے ۔ پس آج اگر ہم داعی الی اللہ بننا چاہتے ہیں تو اوّل یہ کہ ہر داعی الی اللہ کو مبارک صلى الله ہو کہ یہ وہ لقب ہے جو خود خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کو عطافرمایا اور اس لقب میں شامل ہونے کے لئے اپنی توفیق کے مطابق اس میں حصہ پانے کے لئے ہر دعوت الی اللہ کرنے والا کوشش کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ سے ایک گونا مماثلت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کو دعوت کے لئے کیا کرنا چاہئے فرمایا نگران ہو، نگران سے مراد داروغہ نہیں ہے اس کی وضاحت