خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 147
خطبات طاہر جلد اا 147 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء ایسی عمر میں مانگا جبکہ بظاہر بیٹا عطا نہیں ہو سکتا اور انسانی خواص اور صلاحیتیں مضمحل ہو چکی ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کی اولاد پیدا کرنے کی استطاعت باقی نہیں رہتی بال سفید ہو گئے ، ہڈیاں گل گئیں، ، بڑھا پا سر پر چڑھ گیا۔ یہ کیفیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ نے خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایک عظیم بیٹا عطا فرمائے گا۔ اس پر متعجب ہو کر حضرت زکریا نے یہ عرض کیا کہ اے خدا! اگر یہ بات ہے تو مجھے کوئی نشان عطا کر کس طرح مجھے یقین ہو کہ ایسا ممکن ہے، میں کیا ترکیب کروں؟ کیا مجھ پر واجب ہے جس کے بعد مجھے تسلی ہو کہ ہاں اس کے نتیجہ میں وہ عظیم الشان بیٹا جو موعود بیٹا ہے مجھے عطا کیا جائے گا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ! قَالَ أَيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمزًا (ال عمران : (۴۲) کہ آئندہ تین دن تو بھی انسان سے کلیہ تعلق توڑ کر محض خدا کی یاد میں مصروف ہو جا۔ یعنی آئندہ تین دن ایک قسم کا تقبل اختیار کر لے۔ اپنے ساتھیوں ، دوستوں عزیزوں کسی سے بات نہ کر۔ اشارہ ان سے کہہ دے کہ میرے یہ ایام اللہ کے لئے خاص ہیں اور میں ان ایام میں تمہیں کسی پہلو سے شامل نہیں کرنا چاہتا ۔ وَاذْكُرُ رَبَّكَ كَثِيرً ا ( ال عمران (۴۲) اور کثرت سے اللہ کا ذکر کر ۔ وَ سَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ اور رات دن اس کی تسبیح کر۔ اب دیکھیں بعینہ وہی مضمون ہے جو آیت خاتم النبیین کے معاً بعد بیان فرمایا گیا۔ وہاں صلى الله علوس نبوت کے بند ہونے کی خبر نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کی روحانی نسل میں سے ایک عظیم الشان نبی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے اور اس مضمون کو یہ دعا ثابت کرتی ہے جو اس کے معا بعد رکھی گئی کہ یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا یہ وہی دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود الہاما حضرت زکریا کو سکھائی اور اس بات کے نشان کے طور پر کہ اس دعا کے بعد یقینا اللہ تعالیٰ پھر رجوع برحمت فرماتا ہے اور روحانی اولا د عطا فرمایا کرتا ہے۔ اسی دُعا کو خاتم النبین کی آیت کے بعد مومنوں کو کثرت سے کرنے کی ہدایت فرمائی جس کا مطلب یہ ہے۔ کثرت سے خُدا کو یاد کرو اور دن رات صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو۔ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالی تم پر مزید سلامتیاں بھیجے گا جو پہلے ہی تم پر درود اور سلام بھیج رہا ہے اور اس کے فرشتے بھی ۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفے لے کے عظیم الشان کوثر کا یہاں ذکر ہے اور میرے نزدیک خاتم کا مضمون اور کوثر کا مضمون دراصل ایک ہی