خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 149

خطبات طاہر جلد اا 149 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء خدا تعالی دوسری جگہ فرما چکا ہے۔ نگران سے مراد یہ ہے کہ تمہارے قول ، تمہارے فعل کا حسن، تمہارے اعمال کی دلکشی لوگوں کے لئے ایک ایسا نمونہ بن جائے کہ وہ ان کے اپنے اعمال پر گواہ بن اپنے اعمال پر جائے ۔ وہ تمہارے آئینہ میں اپنی شکل دیکھا کریں اور معلوم کر لیا کریں کہ ان میں کیا کیا نقائص ہیں اور کن کن خوبیوں سے وہ محروم ہیں۔ پس ان معنوں میں ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کو اپنے ماحول اور اپنے گردو پیش کے لئے اور خود اپنے گھر میں اپنی اولاد کے لئے گواہ بننا ہوگا اور وہ حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کی گواہی کے معنوں میں گواہ نہیں ہے، ان معنوں میں گواہی نہیں دے رہا جن معنوں علیه میں آنحضرت ﷺ کی گواہی کا فیض دنیا کو پہنچا ہے تو اُس حد تک وہ دعوت الی اللہ کے کام کی اہلیت صلى الله صلى الله سے محروم ہوتا جاتا ہے۔ پس اسی لئے میں نے گزشتہ خطبہ میں اپنے روزمرہ کے اعمال کو سنوارنے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی ہدایت کی تھی اس کا دعوت الی اللہ کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ آپ کو باہر بھی اور گھر میں بھی گواہ بننا ہوگا اور آپ کے خوبصورت اعمال دنیا کے لئے آئینہ کے طور پر پیش ہوں جن میں وہ اپنے چہرے دیکھیں اور آپ کی خوبیوں سے متاثر ہو کر اپنے اندر بھی ویسی خوبیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گویا کہ ایک دلکش وجود پیدا ہونا شروع ہو جائے اور یہی ہے جو دراصل خاتمیت کی مہر ہے جو آپ کے اوپر لگ رہی ہوگی ۔ محمد مصطفے ﷺ کے حُسن کی بے نظیر مہر بالکل ویسی تو نہیں ظاہر ہوا کرتی لیکن جہاں تک آنحضرت ﷺ کی کوشش کا تعلق ہے آپ نے کامل سچائی کے ساتھ وہ مہر بعینہ اسی طرح ہر شخص پر لگانے کی کوشش ضرور کی ہے۔ صلى الله یہ دو باتیں ایسی ہیں جن کو خوب باریکی سے سمجھنا ضروری ہے۔ مہر سچی ہو تو وہ لازماً اپنی تمام صفات کو دوسرے تک پوری صفائی کے ساتھ منتقل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور مہر کی سچائی اس کی اس خاصیت سے پرکھی جاتی ہے لیکن دوسری طرف بعض دفعہ مادہ کمزور ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض کا غذا ایسے ہوتے ہیں جو اچھی بھلی مہر او پر لگاؤ تو وہ اس کے نقوش کو پھیلا دیتے ہیں اور ان کے اوپر صحیح تصویر ابھرتی نہیں ۔ بعض چکنے کا غذ ہیں ان کے اوپر آپ جتنا چاہیں لکھنے کی کوشش کریں کوئی نقش بھی نہیں ابھرتا یا ابھرتا ہے تو جلدی مٹ جاتا ہے تو یہ قصور مہر قبول کرنے والے کے قصور ہیں۔ جہاں تک مہر کی ذات ہے آنحضرت ﷺ کی مہر اپنی ذات میں کامل ہے اور اس مہر کے تین نقوش صلى الله