خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 146

خطبات طاہر جلد اا 146 خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۹۲ء شمعیں روشن ہوتی چلی جائیں گی اور اس طرح کثرت کے ساتھ تیرا نور دنیا میں پھیل جائے گا۔ اس مضمون کی تائید میں اس سے پہلے جو آیات گزری ہیں وہ بہت بڑی گواہ بن جاتی ہیں کیونکہ خاتم النبین کی آیت کے معاً بعد خدا تعالیٰ نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرً ا یہ ایک ایسا مضمون بیان ہوا ہے جس کے نتیجہ میں مومنوں پر واجب ہو گیا ہے کہ اب کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اور دن رات خدا تعالیٰ کی تسبیح کرو۔ اس مضمون کا ولادت کے ساتھ تعلق ہے، ایسی ولادت کے ساتھ تعلق ہے جو بہت عظیم الشان ہوا اور اعجازی رنگ رکھتی ہو اور خاتم النبیین کا مضمون ان دو باتوں کے درمیان بیان ہوا۔ ایک طرف دشمن کا اعتراض کہ تم جیسے کسی مرد کا باپ نہیں اس طرح بیان فرمادیا گیا کہ اس اعتراض کی بے حقیقتی کو بھی ساتھ ظاہر کر دیا گیا دشمن کہتا تھا کہ مردوں کا باپ نہیں ۔ خدا تعالیٰ نے اس کا ذکر اس طرح فرمایا کہ ہاں تم جیسے مردوں کا باپ نہیں اور تم جیسے مردوں کا باپ ہونا عزت کا نہیں ذلت کا موجب ہے ، رسوائی کا موجب ہے ، نامرادی کا موجب ہے ۔ ایسی ناپاک نسلیں چھوڑ کر جانے والا جو تمہاری جیسی نسلیں ہوں ہرگز کسی فخر کے لائق نہیں ، کسی فخر کا حقدار نہیں تو دیکھیں اس اعتراض کو کیسے پیارے رنگ میں بیان فرمایا ۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (الاحزاب : ۴۱ ) ہاں ہاں یہ درست ہے کہ محمد تم جیسے مردوں کا باپ نہیں ہے۔ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ ہاں اللہ کا رسول ہے اور رسول پیدا کرنے والا باپ ہے۔ ایسا باپ ہے جو کثرت سے ایسے انعام یافتہ لوگ پیدا کر سکتا ہے، کرتا رہا ہے اور کرے گا جن کی شان نبوت تک پہنچتی ہے۔ اسی مضمون کو اگلی آیات میں ایک اور رنگ میں یہ بتانے کے لئے بیان فرما دیا گیا کہ یہاں عظیم الشان روحانی ولادت کی خوشخبری دی جا رہی ہے۔ ایک تو روحانی لحاظ سے عام پیدائش ہے وہ تو صلى الله کثرت سے آنحضرت ﷺ نے مُردے زندہ فرمائے ردے زندہ فرمائے اور صحابہ میں نبوت کی شان رکھنے والے بڑے بڑے عظیم صحابہ صحابہ پیدا ہوئے لیکن اس کے علاوہ کسی مخصوص ولادت کا بھی ذکر ہے۔ چنانچہ اس طرز بیان کی وضاحت کے لئے میں سورہ آل عمران کی بیالیسویں آیت آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ اس آیت سے پہلے اللہ تعالی بیان فرما رہا ہے کہ حضرت زکریا نے جب خدا تعالیٰ سے نشان کے طور پر ایک بیٹا