خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد 19 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء اصحاب فتنہ کے خوف سے اور اپنے دین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف فرار کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے حبشہ کی سرزمین کی طرف روانہ ہوئے۔یہ اسلام میں ہونے والی پہلی ہجرت تھی۔حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابہ میں حضرت عثمان اپنی زوجہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 237-238 باب ذكر الهجرة الاولى الى ارض الحبشه دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان حبشہ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے تو ان کے ساتھ حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک ان کی خبر پہنچنے میں تاخیر ہو گئی۔پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ ہجرت کی ہے تو کہاں تک پہنچے ہیں، کیا حال ہے ؟ تو آپ باہر نکل کر ان کے متعلق خبر کا انتظار کرتے رہتے۔پھر ایک عورت آئی اور اس نے آپ کو ان کے بارے میں بتایا۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد عثمان وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہے۔(مجمع الزوائد و منبع الفوائد جزء 9 صفحه 58 ، كتاب المناقب باب هجرته رضي الله عنه، حديث نمبر 14498 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان نے ارض حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ رقیہ کو بھی ہمراہ لے جاؤ۔میرا خیال ہے کہ تم میں سے ایک اپنے ساتھی کا حوصلہ بڑھاتا رہے گا۔یعنی دونوں ہوں گے تو ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہوگے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء بنت ابو بکر کو فرمایا کہ جاؤ اور ان دونوں کی خبر لاؤ کہ چلے گئے ہیں؟ کہاں تک پہنچے ہیں ؟ کیا حالات ہیں باہر کے ؟ حضرت اسماء جب واپس آئیں تو حضرت ابو بکر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت عثمان ایک خچر پر پالان ڈال کر حضرت رقیہ کو اس پر بٹھا کر سمندر کی طرف نکل گئے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر ! حضرت لوط اور حضرت ابراہیم کے بعد یہ دونوں ہجرت کرنے والوں میں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے ہیں۔(مستدرك جزء4 صفحه 414 كتاب معرفة الصحابه باب ذکر رقیه بنت رسول الله الا اللہ حدیث 6999 دار الفکر بیروت 2002ء) پھر حبشہ سے ان کی واپسی کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن صحابہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی انہیں خبر پہنچی کہ مکہ والے اسلام لے آئے ہیں۔اس پر یہ مہاجرین حبشہ سے مکہ کی طرف واپس لوٹے۔جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی۔اس پر یہ لوگ پوشیدہ طور پر یا کسی کی امان میں آکر مکہ میں داخل ہوئے۔ان میں سے بعض تو ایسے تھے کہ جنہوں نے پھر مدینہ ہجرت کی اور بدر اور احد کی جنگ میں آپ کے ساتھ یعنی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے اور بعض ایسے تھے جن کو کفار نے مکہ میں ہی روک لیا اور وہ جنگ بدر وغیرہ میں شریک نہیں ہو سکے۔حبشہ سے آکر پھر مکہ سے مدینہ ہجرت