خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 19 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء قبول اسلام کے بعد آپ پر ظلم بھی ہوئے۔موسیٰ بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان بن عفان نے اسلام قبول کیا تو آپ کے چچا حکم بن ابو العاص بن امیہ نے آپ کو پکڑ کر رسیوں سے باندھ دیا اور کہا کیا تم اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ کر نیا دین اختیار کرتے ہو۔بخدا میں تمہیں ہر گز نہیں کھولوں گا یہاں تک کہ تم اپنا یہ نیا دین چھوڑ نہ دو۔اس پر حضرت عثمان نے کہا خدا کی قسم ! میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا اور نہ اس سے علیحدگی اختیار کروں گا۔حکم نے جب آپ کے دین پر مضبوطی کی یہ حالت دیکھی تو پھر مجبوراً آپ کو چھوڑ دیا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزءالثالث صفحه 31، ذكر اسلام عثمان بن عفان، داراحیاء التراث العربي بیروت، 1996ء) آپ کی شادیاں: حضرت رقیہ سے جب آپ کی شادی ہوئی تو اس کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے پہلے حضرت رقیہ کا رشتہ ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے اور ان کی بہن حضرت ام کلثوم کارشتہ عتبہ کے بھائی عتیبہ سے ہو چکا تھا۔جب سورة المسد یعنی سورۃ اللھب نازل ہوئی تو ان کے باپ ابو لہب نے ان سے کہا کہ اگر تم دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹیوں سے علیحدہ نہ ہوئے تو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔یہ رشتے توڑ دو۔اس پر ان دونوں نے رخصتی سے قبل ہی دونوں بہنوں کو طلاق دے دی۔اس کے بعد حضرت عثمان بن عفان نے مکہ میں ہی حضرت رقیہ سے شادی کر لی اور ان کے ساتھ حبشہ کی جانب ہجرت کی۔حضرت رقیہ اور حضرت عثمان دونوں ہی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ أَحْسَنَ زَوْجَيْنِ رَأَهُمَا إِنْسَانٌ رُقَيَّةُ وَزَوْجُهَا عُثْمَانُ سب سے خوبصورت جوڑا جو کسی انسان نے دیکھا ہو وہ حضرت رقیہ اور ان کے شوہر حضرت عثمان نہیں۔(شرح علامہ زرقانی جزء4 صفحه 322-323 باب في ذكر اولاده الكرام، دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) عبد الرحمن بن عثمان قریشی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے۔وہ اس وقت حضرت عثمان کا سر دھو رہی تھیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی رہو۔یقینا یہ میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔(المعجم الكبير للطبراني جزء 1 صفحه 76 حدیث 98دار احیاء التراث العربي 2002ء) ہجرت کے واقعہ کے بارے میں ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کے صحابہ کو آزمائش پہنچ رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقام و مرتبہ کی وجہ سے اور اپنے چچا ابو طالب کی وجہ سے آپ عافیت میں تھے۔یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عافیت میں تھے اور یہ کہ جس آزمائش میں صحابہ تھے اسے روکنے کی آپ قدرت اور طاقت نہیں رکھتے تھے۔گو خود تو کچھ حد تک امن میں تھے لیکن صحابہ پر جو ظلم ہو رہے تھے ان ظلموں کو روکنے کی آپ میں طاقت نہیں تھی۔اس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اگر تم حبشہ کی سرزمین کی طرف نکلو تو وہاں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے ہاں کسی ایک پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سچائی کی سر زمین ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس آزمائش سے فراخی عطا فرما دے گا جس میں تم لوگ ہو۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے