خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء کرنے والوں میں حضرت عثمان اور ان کی بیوی حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھیں۔(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 265-266 دار الكتب العلمية بيروت 2001ء) حضرت عثمان حبشہ میں چند سال رہے۔کتاب میں ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ چند سال ہے کہ چند سال رہے۔اس کے بعد جب بعض صحابہ قریش کے اسلام کی غلط خبر پا کر اپنے وطن واپس آئے تو حضرت عثمان بھی آگئے۔یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی ہے۔اس بنا پر بعض صحابہ پھر حبشہ کی طرف لوٹ گئے مگر حضرت عثمان مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ مدینہ کی ہجرت کا سامان پیدا ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام صحابہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا ارشاد فرمایا تو حضرت عثمان بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے۔(سیر الصحابہ جلد اول ( خلفائے راشدین) صفحہ 178 ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور پاکستان) ایک روایت میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضرت عثمان دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء الثالث صفحه 31 ذكر اسلام عثمان بن عفان داراحیاء التراث العربي بیروت، 1996ء) لیکن اکثر کتب سیرت میں حضرت عثمان کی حبشہ کی طرف اس دوسری ہجرت کا ذکر نہیں ہے۔ویسے بھی ہجرت حبشہ ثانیہ کا جو پس منظر اور تفصیلات کتب سیرت و حدیث میں بیان ہوئی ہیں، محتاط سیرت نگار اس کو من و عن اس طرح تسلیم نہیں کرتے کیونکہ درایتا ایسا ممکن نہیں ہے۔چنانچہ ہجرت حبشہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو اپنی تحقیق کی ہے گو اس میں سے کچھ حصہ میں پہلے گذشتہ بعض صحابہ کے ذکر میں کر چکا ہوں لیکن بہر حال یہاں بھی ذکر ضروری ہے۔مرزا بشیر احمد صاحب کی تحقیق یہ ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ "جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایز اور سانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے۔اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔حبشہ کا ملک جو انگریزی میں ایتھوپیا یا ابی سینیا کہلاتا ہے بر اعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور جائے وقوع کے لحاظ سے جنوبی عرب کے بالکل مقابل پر ہے اور درمیان میں بحیرہ احمر کے سوا کوئی اور ملک حائل نہیں ہوتا۔اس زمانہ میں حبشہ میں ایک مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلا تا تھا بلکہ اب تک بھی وہاں کا حکمران اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔" یعنی جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا۔" حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے اور ان ایام میں۔۔۔۔حبشہ کا دارالسلطنت اکسوم (Axsum) تھا جو موجودہ شہر عدوا (Adowa) کے قریب واقع ہے اور اب تک ایک مقدس شہر کی صورت میں آباد چلا آتا ہے۔اکسوم اُن دنوں میں ایک بڑی طاقتور حکومت کا مرکز تھا اور اس وقت کے نجاشی کا ذاتی نام اصحمہ تھا۔جو ایک عادل، بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر ماہ رجب 5 / نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں: