خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 49

خطبات مسرور جلد 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء ابن اسحاق کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ کی شادی حضرت عثمان سے کی جو غزوہ بدر کے ایام میں وفات پا گئیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی حضرت رقیہ کی بہن حضرت ام کلثوم سے حضرت عثمان کی شادی کر دی اس وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جانے لگا۔(الاصابه في تمييز الصحابه لامام حجر العسقلانى جزء 4 صفحه 377 ، عثمان بن عفان، دار الكتب العلمية بیروت، 2005ء) یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ کو ذوالنورین اس لیے کہا جاتا تھا کہ آپ ہر رات نماز تہجد میں بہت زیادہ تلاوت قرآن کریم کیا کرتے تھے چونکہ قرآن نور ہے اور قیام اللیل بھی نور ہے اس لیے آپ ذوالنورین یعنی ”دو نوروں والا“ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔(سيرة اميرالمؤمنين عثمان بن عفان شخصیته و عصره از علی محمد الصلابی، صفحه 16، الفصل الاول ، المبحث الاول اسمه ونسبه وكنيته، دار المعرفة بيروت 2006ء) ایک صحیح قول کے مطابق حضرت عثمان کی ولادت کے بارے میں یہ بھی ایک روایت ملتی ہے کہ حضرت عثمان عام الفیل کے چھ سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ طائف میں پیدا ہوئے تھے۔آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً پانچ سال چھوٹے تھے۔(سيرة اميرالمؤمنين عثمان بن عفان شخصيته وعصره از علی محمد الصلابی، صفحه 16، الفصل الاول ، المبحث الاول اسمه ونسبه وكنيته، دار المعرفة بيروت 2006ء) قبول اسلام: آپ کے قبولِ اسلام کے بارے میں یزید بن رومان روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عثمان بن عفان اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ دونوں حضرت زبیر بن عوام کے پیچھے پیچھے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے ان دونوں کے سامنے اسلام کا پیغام پیش کیا اور انہیں قرآن کریم پڑھ کر سنایا اور انہیں اسلام کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی عزت و اکرام کا وعدہ کیا۔اس پر وہ دونوں، حضرت عثمانؓ اور حضرت طلحہ ایمان لے آئے اور آپ کی تصدیق کی۔پھر حضرت عثمان نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں حال ہی میں ملک شام سے واپس آیا ہوں۔جب ہم مَعَانُ اور زرقاء مقام کے درمیان پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔مکان اردن کے جنوب میں حجاز کی حدود کے قریب ایک شہر ہے اور زرقاءیہ معان کے ساتھ ہی واقع ہے۔بہر حال کہتے ہیں وہاں ہم پڑاؤ کیے ہوئے تھے اور ہم سوئے ہوئے تھے کہ ایک منادی کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے سونے والو ! جا گو۔یقیناً احمد مکہ میں ظاہر ہو چکا ہے۔پھر جب ہم واپس پہنچے تو ہم نے آپ کے بارے میں سنا۔حضرت عثمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دار از قم میں داخل ہونے سے پہلے قدیمی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد، الجزء الثالث صفحه 31 ، ذکر اسلام عثمان بن عفان داراحیاء التراث العربي بیروت 1996ء) (معجم البلدان از ڈاکٹر غلام جیلانی برق صفحه 320 ، معجم البلدان جلد 3 صفحه 472 الزرقاء دار الكتب العلمية بيروت)