خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 48
خطبات مسرور جلد 19 48 4 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 جنوری 2021ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22 / جنوری 2021ء بمطابق 22 / صلح 1400 هجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے)، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت عثمان کا ذکر : آج میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر شروع کروں گا۔چند ہفتے تک یہ جاری رہے گا۔حضرت عثمان کے بارے میں پہلی بات تو یہ یادر کھنی چاہیے کہ یہ خود جنگ بدر میں شامل نہیں ہوئے تھے البتہ ان آٹھ خوش نصیب صحابہ میں شامل تھے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے مال غنیمت میں حصہ دے کر جنگ میں شامل ہونا ہی قرار دیا تھا۔آپ کا نام عثمان بن عفان بن ابو العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب ہے۔اس طرح آپ کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب کے ساتھ پانچویں پشت پر عبد مناف پر جا کر ملتا ہے۔حضرت عثمان کی والدہ کا نام از وی بنت کریز تھا۔حضرت عثمان کی نانی ام حکیم بَيْضَاء بنت عبد المطلب تھیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبد اللہ کی سگی بہن تھیں۔ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبد اللہ اور حضرت عثمان کی نانی ام حکیم بَيْضَاء بنت عبدالمطلب جڑواں پید اہوئے تھے۔حضرت عثمان کی والدہ از وی بنت کریز نے صلح حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آگئیں اور اپنے بیٹے حضرت عثمان کے دور خلافت میں فوت ہونے تک مدینہ میں ہی قیام پذیر کرکے رہیں۔حضرت عثمان کے والد زمانہ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئے تھے۔(الاصابه في تمييز الصحابه لا مام حجر العسقلانی، جزء 4 صفحه 377 ، عثمان بن عفان، دار الكتب العلمية بيروت، 2005ء) (سيرة امير المؤمنين عثمان بن عفان شخصيته و عصره از علی محمد الصلابی، صفحه 15، الفصل الاول ، المبحث الاول اسمه ونسبه وكنيته، دارالمعرفة بيروت 2006ء) (سير الصحابہ جلد اول صفحہ 154، دار الاشاعت کراچی 2004ء) (الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 182 183 اروی بنت کریز، ام كلثوم بن عقبه) حضرت عثمان کی کنیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت عثمان کی کنیت ابو عمرو تھی۔جب حضرت رقیہ بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے بیٹے عبد اللہ پید اہوئے تو اس کی مناسبت سے پھر مسلمانوں میں آپ کی کنیت ابو عبد اللہ بھی معروف ہو گئی۔(سيرة اميرالمؤمنین عثمان بن عفان شخصیته و عصره از علی محمد الصلابی، صفحه 15، الفصل الاول ، المبحث الاول اسمه ونسبه ،وكنيته دارالمعرفة بيروت 2006ء)