خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد 19 46 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء جانتے ہیں لیکن آپ نے کسی بھی قسم کی ناپسندیدگی یا نا گواری کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی (مجھ سے) پہلو تہی کی بلکہ وہ مجھے ملے اور مخلص محبین کی طرح مجھ سے محبت کی اور انہوں نے بچے صاف دل رکھنے والے لوگوں کی طرح محبت کا اظہار فرمایا اور آپ کے ساتھ " یعنی حضرت علی کے ساتھ " حسین بلکہ حسن اور حسین دونوں اور سید الرسل خاتم النبیین ” بھی تھے اور ان کے ساتھ ایک نہایت خوبرو، صالحہ جلیلۃ القدر، بابرکت، پاکباز، لائق تعظیم، باوقار، ظاہر و باہر نور مجسم جوان خاتون بھی تھیں جنہیں میں نے غم سے بھر اہوا پایا لیکن وہ اسے چھپائے ہوئے تھیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ حضرت فاطمتہ الزہرا نہیں۔آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میں لیٹا ہو ا تھا۔پس آپ بیٹھ گئیں اور آپ نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور شفقت کا اظہار فرمایا اور میں نے دیکھا کہ وہ میرے کسی غم کی وجہ سے غمزدہ اور رنجیدہ ہیں اور بچوں کی تکالیف کے وقت ماؤں کی طرح شفقت و محبت اور بے چینی کا اظہار فرما رہی ہیں۔" اس بات پر بھی بعض غیر از جماعت لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھو جی۔کیسی غلط بات کی ہے کہ ران پر سر رکھ لیا حالانکہ آپ نے یہ ماؤں کی مثال دی ہے اور اس سے پہلے جو باتیں کی ہیں اور وہ ساری جو صفات بیان کی ہیں اس کو اگر غور سے پڑھیں اور پھر یہ فقرہ دیکھیں کہ ماؤں کی طرح شفقت و محبت کی تو سارے اعتراض دور ہو جاتے ہیں لیکن گندی ذہنیت ہے اس لیے ان لوگوں میں اعتراض پیدا ہوتے رہتے ہیں۔بہر حال پھر آپ یعنی مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں" پھر مجھے بتایا گیا کہ دین کے تعلق میں ان کے نزدیک میری حیثیت بمنزلہ بیٹے کے ہے اور میرے دل میں خیال آیا کہ ان کا غمگین ہونا " یعنی حضرت فاطمہ کا غمگین ہونا اس امر پر کنایہ ہے جو میں قوم، اہل وطن اور دشمنوں سے ظلم دیکھوں گا۔پھر حسن اور حسین دونوں میرے پاس آئے اور بھائیوں کی طرح مجھ سے محبت کا اظہار کرنے لگے اور ہمدردوں کی طرح مجھے ملے اور یہ کشف بیداری کے کشفوں میں سے تھا اور اس پر کئی سال گزر چکے ہیں اور مجھے حضرت علی اور حضرت حسین کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے اور اس مناسبت کی حقیقت کو مشرق و مغرب کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا اور میں حضرت علی اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتا ہوں اور جو اُن سے عداوت رکھے اس سے میں عداوت رکھتا ہوں اور بائیں ہمہ میں جور و جفا کرنے والوں میں سے نہیں اور یہ میرے لئے ممکن نہیں کہ میں اس سے اعراض کروں جو اللہ نے مجھ پر منکشف فرمایا اور نہ ہی میں حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہوں۔اگر تم قبول نہ کرو تو میر ا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے اور اللہ ہمارے اور تمہارے در میان ضرور فیصلہ فرمائے گا اور وہ فیصلہ کرنے والوں میں سے سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔" سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 358-359، سر الخلافہ اردو ترجمہ صفحہ 108تا112 شائع کردہ نظارت اشاعت صدرانجمن احمد یہ پاکستان۔ربوہ) یہاں اب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ختم ہوتا ہے ان شاء اللہ آئندہ آگے شروع ہو گا۔اس وقت میں یہ بھی ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ نمازوں کے بعد میں ایک نیاٹی وی چینل لانچ کروں گا جو ایم ٹی اے گھانا کے نام سے چوبیس گھنٹے براڈ کاسٹ (broadcast) ہو گا۔گھانا میں وہاب آدم سٹوڈیو 2017 ء میں قائم ہوا تھا اور عبد الوہاب آدم صاحب مرحوم امیر مشنری انچارج گھانا تھے ان کے نام پر اس کا