خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 917

خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 19 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء مزاحمت کی اور ہر راستے میں بیٹھے اور آپ بہت صابر اور صالحین میں سے تھے مگر یہ ممکن نہیں کہ ہم ان کی خلافت کو اس ( آیت استخلاف والی) بشارت کا مصداق قرار دیں کیونکہ آپ کی خلافت فساد، بغاوت اور خسارے کے زمانے میں تھی۔" (سر الخلافة، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ352-353، سر الخلافہ اردوترجمہ صفحہ 95-96 شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمد یہ پاکستان۔ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔" (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 151 مکتوب نمبر 2 مکتوب بنام حضرت خان صاحب محمد علی خان صاحب مطبوعہ ربوہ) پھر آپ حضرت علی کے مقام و مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " آپ " یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ تقویٰ شعار، پاک باطن اور ان لوگوں میں سے تھے جو خدائے رحمان کے ہاں سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں اور آپ قوم کے برگزیدہ اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔آپ خدائے غالب کے شیر ، خدائے مہربان کے جوانمرد، سخی، پاک دل تھے۔آپ ایسے منفرد بہادر تھے جو میدان جنگ میں اپنی جگہ نہیں چھوڑتے خواہ ان کے مقابلے میں دشمنوں کی ایک فوج ہو۔آپ نے ساری عمر تنگدستی میں بسر کی اور نوع انسانی کے مقام زہد کی انتہا تک پہنچے۔آپ مال و دولت عطا کرنے ، لوگوں کے ہم و غم دور کرنے اور یتیموں، مسکینوں اور ہمسایوں کی خبر گیری کرنے میں اول درجے کے مرد تھے۔آپ نے جنگوں میں طرح طرح کے بہادری کے جوہر دکھائے تھے۔تیر اور تلوار کی جنگ میں آپ سے حیرت انگیز واقعات ظاہر ہوتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ نہایت شیریں بیان اور فصیح اللسان بھی تھے۔آپ کا بیان دلوں کی گہرائی میں اتر جاتا اور اس سے ذہنوں کے زنگ صاف ہو جاتے اور برہان کے نور سے اس کا چہرہ دمک جا تا۔آپ قسما قسم کے انداز بیان پر قادر تھے اور جو آپ سے ان میں مقابلہ کرتا تو اسے ایک مغلوب شخص کی طرح آپ سے معذرت کرنا پڑتی۔آپ ہر خوبی میں اور بلاغت و فصاحت کے طریقوں میں کامل تھے اور جس نے آپ کے کمال کا انکار کیا تو اس نے بے حیائی کا طریق اختیار کیا اور آپ لاچاروں کی غمخواریوں کی جانب ترغیب دلاتے اور قناعت کرنے والوں اور خستہ حالوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیتے۔آپ اللہ کے مقرب بندوں میں سے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ فرقان (حمید) کے جام (معرفت ) نوش کرنے میں سابقین میں سے تھے اور آپ کو قرآنی و قائق کے ادراک میں ایک عجیب فہم عطا کیا گیا تھا۔میں نے عالم بیداری میں انہیں دیکھا ہے نہ کہ نیند میں۔پھر (اسی حالت میں) آپ نے خدائے علام الغیوب) کی کتاب کی تفسیر مجھے عطا کی اور فرمایا؛ یہ میری تفسیر ہے اور یہ اب آپ کو دی جاتی ہے۔پس آپ کو اس عطا پر مبارک ہو" یعنی حضرت علی نے یہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دی اور فرمایا آپ کو اس عطا پر مبارک ہو۔جس پر میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔" حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جس پر میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور وہ تفسیر لے لی اور میں نے صاحب قدرت عطا کرنے والے اللہ کا شکر ادا کیا اور میں نے آپ کو خلق میں متناسب اور خُلق میں پختہ اور متواضع منکسر المزاج تاباں اور منور پایا اور میں یہ حلفاً کہتا ہوں کہ آپ مجھ سے بڑی محبت و الفت سے ملے اور میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آپ مجھے اور میرے عقیدے کو جانتے ہیں اور میں اپنے مسلک اور مشرب میں شیعوں سے جو اختلاف رکھتا ہوں وہ اسے بھی