خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 44
خطبات مسرور جلد 19 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء میں تو ایمان ہی نہیں تھا۔یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان کے زیور سے عاری تھے۔" تو اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ صدیق کے لئے تقوی اور امانت اور دیانت شرط ہے تو یہ تمام بزرگ اور اعلیٰ طبقہ کے انسان جو رسول اور نبی اور ولی ہیں کیوں خدا تعالیٰ نے ان کے حالات کو عوام کی نظر میں مشتبہ کر دیا۔" کیوں یہ لوگ جو تھے ان کو صحیح طرح سمجھ نہیں آئی کیوں ان کی جو حالت تھی، ان کا جو سارا اسوہ تھا مشتبہ تھا ؟" اور وہ اُن کے افعال اور اقوال کو سمجھنے سے اس قدر قاصر رہے کہ ان کو دائرہ تقوی اور امانت اور دیانت سے خارج سمجھا اور ایسا خیال کر لیا کہ گویاوہ لوگ ظلم کرنے والے اور مال حرام کھانے والے اور خون ناحق کرنے والے اور دروغ گوئی اور عہد شکن اور نفس پرست اور جرائم پیشہ تھے حالانکہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ نہ رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور نہ نبی ہونے کا اور نہ اپنے تئیں ولی اور امام اور خلیفتہ المسلمین کہلاتے ہیں لیکن بایں ہمہ کوئی اعتراض ان کے چال چلن اور زندگی پر نہیں ہوتا تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیا کہ تا اپنے خاص مقبولوں اور محبوبوں کو بد بخت شتاب کاروں سے جن کی عادت بد گمانی ہے مخفی رکھے جیسا کہ خود وجود اس کا اس قسم کی بدظنی کرنے والوں سے مخفی ہے۔" تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 422 حاشیہ) یعنی یہ کہنے والے خود بد بخت ہیں اور بد ظنی کرنے والے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے خود اپنے آپ کو مخفی رکھا ہوا ہے اور لوگ اللہ تعالیٰ پر بدظنی کرتے ہیں اسی طرح اس کے جو مقرب ہیں ان پر بھی خود یہ بد بخت لوگ اعتراض میں جلدی کرنے والے ہیں یہی لوگ اصل میں ایسے ہیں جن میں تقویٰ نہیں ہے اور یہ متقیوں پر الزام لگاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ حضرت علی متلاشیان (حق) کی امید گاہ اور سنیوں کا بے مثال نمونہ اور بندگان (خدا) کے لئے حجتہ اللہ تھے۔نیز اپنے زمانے کے لوگوں میں بہترین انسان اور ملکوں کو روشن کرنے کے لئے اللہ کے نور تھے لیکن آپ کی خلافت کا دور امن و امان کا زمانہ نہ تھا بلکہ فتنوں اور ظلم و تعدی کی تند ہواؤں کا زمانہ تھا۔عوام الناس آپ کی اور ابن ابی سفیان کی خلافت کے بارے میں اختلاف کرتے تھے اور ان دونوں کی طرف حیرت زدہ شخص کی طرح ٹکٹکی لگائے بیٹھے تھے اور بعض لوگ ان دونوں کو آسمان کے فرقد نامی دوستاروں کی مانند تصور کرتے تھے اور دونوں کو درجہ میں ہم پلہ سمجھتے تھے لیکن سچ یہ ہے کہ حق ( علی ) مر تضی کے ساتھ تھا اور جس نے آپ کے دور میں آپ سے جنگ کی تو اس نے بغاوت اور سرکشی کی لیکن آپ کی خلافت اس امن کی مصداق نہ تھی جس کی بشارت خدائے رحمن کی طرف سے دی گئی تھی بلکہ (حضرت علی) مرتضی کو ان کے مخالفوں کی طرف سے اذیت دی گئی اور آپ کی خلافت مختلف قسم اور طرح طرح کے فتنوں کے نیچے پامال کی گئی۔آپ پر اللہ کا بڑا فضل تھا لیکن زندگی بھر آپ غمزدہ اور دل فگار رہے اور پہلے خلفاء کی طرح دین کی اشاعت اور شیطانوں کو رجم کرنے پر قادر نہ ہو سکے بلکہ آپ کو قوم کی طعن زنی سے ہی فرصت نہ ملی اور آپ کو ہر ارادے اور خواہش سے محروم کیا گیا۔وہ آپ کی مدد کے لئے جمع نہ ہوئے بلکہ آپ پر پیہم ظلم ڈھانے پر یکجا ہو گئے اور اذیت دینے سے باز نہ آئے بلکہ آپ کی