خطبات مسرور (جلد 19۔ 2021ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد 19 43 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2021ء روپے دینے کے لیے آیا تو اس نے بدلانے سے انکار کر دیا۔جب میں پیچھے پڑا تو اس نے مجھے تھپڑ مارا۔آپ نے مشتری سے کہا کہ اس کو روپے بدل دے۔" جو خریدار تھا اس کو یہ کہا اس کو روپے بدل کے دو۔رقم بدل کے دو" پھر دوسرے شخص سے کہا کہ تھپڑ مارنے کا ثبوت پیش کر۔جب اس نے ثبوت دے دیا تو آپ نے مارنے والے کو بٹھا دیا اور اس سے کہا کہ اس سے بدلہ لے۔اس نے کہا اے امیر المومنین! میں نے اس کو معاف کر دیا ہے۔آپ نے فرمایا تو نے تو اس کو معاف کر دیا مگر میں چاہتا ہوں کہ تیرے حق میں احتیاط سے کام لوں۔معلوم ہوتا ہے وہ شخص سادہ تھا اور اپنے نفع نقصان کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔" حضرت مصلح موعودؓ لکھ رہے ہیں۔" اور پھر اس شخص کو " جس نے تھپڑ مارا تھا اس شخص کو " 9 کوڑے مارے۔اور فرمایا اس شخص نے تو تجھے معاف کر دیا تھا مگر یہ سزا حکومت کی طرف سے ہے۔" ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 362-363) پھر ایک اور واقعہ حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ " ایک عمدہ مثال حضرت علی کے عمل سے ملتی ہے۔آپ نے ایک دفعہ دیکھا کہ ایک شخص نے دوسرے کو پیٹا ہے۔حضرت علی نے اس کو روکا اور مضروب کو کہا کہ اب تم اس کو مارو۔مگر مضروب نے کہا کہ میں اس کو معاف کرتا ہوں۔حضرت علی نے سمجھ لیا کہ ڈر کے مارے اس نے اسے مارنے سے انکار کیا ہے کیونکہ وہ مارنے والا بڑا جبار شخص تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا تم نے اپنا ذاتی حق معاف کر دیا ہے مگر میں اب قومی حق کو استعمال کرتا ہوں اور اسے اسی قدر پیو ادیا جس قدر کہ اس نے دوسرے کمزور شخص کو پیٹا تھا۔" (تفسیر کبیر جلد 4 صفحہ 331) حضرت مصلح موعودہؓ بیان کرتے ہیں کہ "حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ان کا ایک مقدمہ ایک اسلامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو مجسٹریٹ نے حضرت علی کا کچھ لحاظ کیا۔آپ نے فرمایا یہ پہلی بے انصافی ہے جو تم نے کی ہے " کہ میر الحاظ کر رہے ہو " میں اور یہ اس وقت برابر ہیں۔" (خطبات محمود جلد 16 صفحہ 516) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت علی کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " کیا آپ قوم کے سب سے فصیح و بلیغ واعظ اور ان لوگوں میں سے نہ تھے جو لفظوں میں جان ڈال دیتے ہیں ؟ اپنی بلاغت اور حسن بیان کے زور سے اور سامعین کے لئے اپنی پر کشش تاثیر سے لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لینا آپ کے لئے محض ایک گھنٹے بلکہ اس سے بھی کم تر وقت کا کام تھا۔" (سر الخلافۃ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 350، سر الخلافہ اردوترجمہ صفحہ 89-90 شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمدیہ پاکستان۔ربوہ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو۔وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔" (لیکچر لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 294) پھر آپ فرماتے ہیں کہ " خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فاسق قرار دیتے ہیں اور بہت سے امور خلاف تقوی ان کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ حلیہ ایمان سے بھی ان کو عاری سمجھتے ہیں۔" یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ ان